میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ قربانی کرتے وقت نیت کرنا ضروری ہے کہ یہ کس طرف سے ہے؟ اگر گھر میں چار بیٹے ہیں جو شادی شدہ اور بچوں والے ہیں والدصاحب ریٹائرڈ ہیں، وہ لوگ علیحدہ علیحدہ قربانی لیں گے یا ۳، یا ۴ بکرے لیں گے اور کہیں گے کہ سب کی طرف سے قربانی ہوگئی؟ کسی بیٹے، ان کی بیوی، والدین کی الگ نیت نہیں کریں گے، اگر دو بھائی مل کر ایک بکرا لیں تو وہ دونوں کی طرف سے قربانی ہوگی یا کسی ایک کی طرف سے؟ قربانی کی نیت کرنا ضروری ہے کہ یہ میاں کی طرف سے ہے یا بیوی کی طرف سے؟
قربانی کے جانور یا ان کے حصوں کی تعیین کئے بغیر قربانی کرنے سے کسی کی طرف سے بھی قربانی درست نہ ہوگی اس لئے جس کی طرف سے قربانی کررہے ہوں تعیین کے بعد قربانی کرنا لازم ہے اس کے بعد جاننا چاہئے کہ گھر میں جتنے بالغ افراد صاحب نصاب ہوں ان سب پر اپنی علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا لازم ہے چنانچہ چھوٹے جانور (جیسے بکرا) میں دو بھائی شریک ہوکر قربانی نہیں کرسکتے، البتہ بڑے جانوروں میں سات افراد مل کر بھی قربانی کرسکتے ہیں والد یا کسی بڑے کی اپنی ذاتی قربانی کرنے سےگھر کے تمام افراد جو صاحب نصاب ہیں ان کی قربانی ادا نہ ہوگی، الا یہ کہ وہ سب کی اجازت سے ان کے حصے بھی ملاکر قربانی کرے، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
کما فی الاشباہ والنظائر: واما الضحایا فلا بد فیہا من النیۃ لکن عند الشراء لا عند الذبح۔ الخ (ص۴۰)۔
وفی الفتاویٰ الہندیۃ: یجب أن یعلم أن الشاۃ لا تجزیٔ إلا عن واحد، وإن کانت عظیمۃ والبقر والبعیر یجزی عن سبعۃ إذا کانوا یریدون بہ وجہ اللہ تعالیٰ والتقدیر بالسبع یمنع الزیادۃ، ولا یمنع النقصان، کذا فی الخلاصۃ۔ الخ (ج۵، ص۳۰۴)۔
وفیہ ایضاً: وإن کانوا کبارا إن فعل بأمرہم جاز عن الکل فی قول أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ، وإن فعل بغیر أمرہم أو بغیر أمر بعضہم لا تجوز عنہ ولا عنہم فی قولہم جمیعًا؛ لأن نصیب من لم یأمر صار لحما فصار الکل لحما۔ الخ (ج۵،ص۳۰۲) واللہ اعلم