لوگ جب کوئی چیز بانٹتے ہیں یا خیرات کرتے ہیں، جیسے حلیم، دال چاول وغیرہ تو پہلے اس چیز پر درود شریف پڑھ کر پھونکتے ہیں، اس کے بارے میں راہ نمائی کریں۔
کسی چیز پر قرآنِ پاک کی آیات یا درود پڑھ کر پھونک دینا شرعاً جائز اور درست ہے، مگر اس کو ضروری نہیں سمجھنا چاہیے۔
کما في سنن أبي داود: عن عائشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم: "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى يقرأ فی نفسه بالمعوذات وينفث، فلما اشتد وجعه كنت أقرأ عليه وأمسح عليه بيده رجاء بركتها" اھ (2/189)
وفي البحر الرائق: ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به اھ (2/172)