رمضان کی چاند رات کو سورۂ فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ اس کی کیا روایت ہے؟ کیا کسی مقصد کو ذہن میں رکھ کر روزانہ عصر کی نماز کے بعد سورۂ رحمٰن پڑھ سکتے ہیں؟
کسی مستند عالم کے تجویز کرنے پر چاند رات سورۃ الفاتحہ پڑھنا ، یا کسی جائز مقصد کے حصول کے لئے عصر کی نماز کے بعد سورۂ رحمٰن پڑھنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔