السلام علیکم
امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ،در اصل میں اس مرتبہ اپنے مرحومین کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہوں ، تو کیا سب کے لیے ایک حصہ کافی ہے ، یا ہر مرحوم کا الگ الگ حصہ ہونا ضروری ہے اور صحابہ کرام کی طرف سے بھی ایک ہی حصہ ٹھیک رہے گا ؟
کیا اپنے کسی ایسے رشتہ دار کو قربانی کے جانور میں حصہ دے سکتے ہیں جن کا تھوڑا بہت سودی لین دین ہو وہ قسطوں پر سامان لیتے ہیں اور اس پر قیمت زیادہ ادا کر نا پڑتی ہے، پہلے وہ اس بات کو برا نہیں سمجھتے تھے کہ تھوڑا پیسہ دے کر سہولت ہو جاتی ہے، لیکن جب سے میں نے بولنا شروع کیا ہے کہ یہ درست نہیں، تو وہ انکار کرتے ہیں کہ نہیں اب ہم اوپر پیسے نہیں دیتے، اور آمدنی ان کی حلال ہے تو کیا اپنے ساتھ شامل کر سکتے ہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔
سائل مرحومین کی طرف سے جو قربانی کرنا چاہتا ہے ،اس سے مقصود ایصال ثواب ہوتا ہے ، اس لئے ایک قربانی کر کے اس کا ثواب تمام مرحومین کو بخش سکتا ہے۔
۲:سائل نے جس رشتہ دار کے کاروبار کے متعلق لکھا ہے ، کہ وہ سودی لین دین کرتے ہیں، اگر اس کی اکثر اور غالب آمدنی حلال ہو جیسا کہ سوال سے بھی معلوم ہوتا ہے، یا اس کی اکثر اور غالب آمدنی اگر چہ حرام ہو مگر وہ قرض لیکر قربانی میں شریک ہو ، تو اس کو اپنی قربانی کے جانور میں شریک کرنے کی گنجائش ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه اھ (5/ 99)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (ثم ذبحه) أي: أراد ذبحه. (ثم قال: بسم الله) : قال الطيبي: ثم هذه للتراخي في الرتبة، وأنها هنا هي المقصودة الأولية، وإلا فالتسمية مقدمة على الذبح. (اللهم تقبل من محمد وآل محمد) ، ومن أمة محمد. قال الطيبي: المراد المشاركة في الثواب مع الأمة ; لأن الغنم الواحد لا يكفي عن اثنين فصاعدا اهـ. قال ابن الملك: ولكن إذا ذبح واحد عن أهل بيت بشاة تأدت السنة لجميعهم اھ (3/ 1079)۔