کچھ دن پہلے میرے شوہر نے بات کرتے ہوئے کہہ دیا "طلاق ، طلاق ، طلاق " صرف یہ الفاظ کہے تھے ان کی کوئی نیت نہیں تھی، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس سے طلاق واقع ہوئی کہ نہیں ؟
نوٹ : سائلہ سے فون کے ذریعے تنقیح کرنے پر معلوم ہوا کہ سائلہ کے شوہر نے مذکور الفاظ غصے اور گھریلو جھگڑے کے دوران کہے تھے ، شوہر شوگر کا مریض ہے ، اسے اکثر معمولی باتوں پر شدید غصہ آتا ہے۔
طلاق کے صریح الفاظ میں نیت کرنا ضروری نہیں، اس کے بغیر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، چنانچہ سائلہ کے شوہر نے دوران جھگڑےغصہ میں تین مرتبہ مذکور الفاظ کہے ہیں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، اور عدت کے بعد عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
وفي الشامية:تحت (قوله ما لم يستعمل إلا فيه )أي غالبا كما يفيده كلام البحروعرفه في التحرير بما يثبت حكمه الشرعي بلانية ( ج ۳ ص ۲۲۶)۔
وفي بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل: (فإن طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتى تنكح زوجاً غيره). وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة اھ ( ج ۳ ص ۲۳۳) والله اعلم بالصواب