مجھے تین طلاق کے متعلق فتوی درکار ہے میرے بھائی نے پچھلے ہفتے لڑائی کے دوران بہت زیادہ غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی، اس کے بعد وہ واقعۃًپریشان اور اس سےصادر غلطی پر پچھتا رہا ہے،پچھلے چھ مہینوں سے وہ بے روز گار ہے اور اس کی دس ماہ کی بیٹی بھی ہے، میں یہ بات جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اسلام اور اللہ تعالی کی طرف سے تعلیمات کی روشنی میں اس کے لئے اپنی بیوی سے ملنے و متحدہونے کے لئے کوئی راستہ ہے ؟
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ،لہذا سائل کے بھائی نے جب غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہیں، تو اس سے شرعا ًبھی اس کی بیوی پر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایّام عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ شادی کرنے میں آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدت طلاق گزارنےکےبعد اپنی مرضی سے کسی دوسرے مسلمان شخص سے عقدِ نکاح کرے ،ایسا کرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائیگی ،اس کے بعد اگروہ دوسرا شخص اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےبعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنے پر رضامندہو،تونئے حق مہر کےتقررکےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج ِاول کےلئےحلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
کمافي احكام القرآن للجصاص تحت قوله تعالى: (حتى تنكح زوجا غيره ) غاية التحريم الموقع بالثلاث فاذا وطنها الزوج الثانى ارتفع ذالك التحريم اھ (353/1)
وفی الھندیة: فنوعان بدعي (الی قولہ) فالذي يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق اھ(1/ 349)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرة او ثنتین فی الامة لم تحل له حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا والشرط الا یلاج دون الأول اھ (3 /603)