مفتی صاحب میں بہت پریشان ہوں، طلاق کے وسوسوں نے ہلاک کر کے رکھ دیا ہے،جب سے ان باتوں کا علم ہوا کہ طلاق کے علاوہ بھی ایسے الفاظ ہیں، جن میں نیت ہو تو طلاق ہو جاتی ہے، کچھ صریح الفاظ بھی جیسے خود لفظ طلاق ، فارغ اور چھوڑنا، کنا یہ آزاد کرتا ہوں، رشتہ ختم کرتا ہوں دفع ہو جاؤ وغیرہ ، مفتی صاحب مجھے اور میرے شوہر کو پتا ہی نہیں تھا کہ ان الفاظ سے بھی کوئی طلاق ہوتی ہے، میں اکثر شوہر سے لڑتی جھگڑتی طلاق کا مطالبہ کرتی تھی، اب شوہر تو بولتے ہیں کہ میں ہمیشہ مستقبل کے لئے بولتا تھا ،ختم کرونگا، طلاق دونگا، چھوڑونگا وغیرہ ۔ لیکن مفتی صاحب مجھے چھوڑنا لفظ لگتا ہے شوہر نے دو تین دفع کہا ہے شوہر سے پوچھتی ہوں تو وہ کہتے ہیں میں نے نہیں بولا ، لیکن مجھے لگتا ہے دو تین بار کہا ہے میں نے تمہیں چھوڑ دیا، اب کوئی مجھ سے قسم اٹھوا لے کہ واقع آپ کو یاد ہے کہ شوہر نے بولا ہے تو میں کیوں کی قسم نہیں کہا سکتی لیکن لگتا ہے کہ کہا ہے اب یہ شاید حقیقت بھی ہو پھر مجھے واضح الفاظ ذہن پہ نہیں, میں کیا کروں؟ کیا دو تین مان لوں؟
سائلہ اور اس کے شوہر کو اگر چھوڑ دیا ، آزاد کیا، وغیرہ الفاظ کے متعلق یقینی طور پر کچھ یاد نہ ہو تو محض شک کی وجہ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم آئندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کو طلاق کے الفاظ استعمال کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
كما في الدر المختار: (فإن اختلفا في وجود الشرط) أي ثبوته ليعم العدمي (فالقول له مع اليمين) لإنكاره الطلاق اھ (3/ 356)۔
و في الفتاوى الهندية: وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول له إلا إذا برهنت وما لا يعلم إلا منها فالقول لها في حقها كأن حضت فأنت طالق وفلانة أو إن كنت تحبيني فأنت طالق وفلانة فقالت حضت أو أحبك طلقت هي فقط اھ (1/ 422)۔
و في بدائع الصنائع: ومنها عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته لأن النكاح كان ثابتا بقين ( ( ( بيقين ) ) ) ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك كحياة المفقود إنها لما كانت ثابتة ووقع الشك في زوالها لا يحكم بزوالها بالشك حتى لا يورث ماله ولا يرث هو أيضا من أقاربه والأصل في نفي اتباع الشك قوله تعالى { ولا تقف ما ليس لك به علم } وقوله عليه الصلاة والسلام لما سئل عن الرجل يخيل إليه أنه يجد الشيء في الصلاة اھ (3/ 126)-