اگر کوئی مسبوق شخص امام کے ساتھ سلام پھیر دے پھر یاد آجائے اور باقی رکعات پوری کرے تو کیا نماز ادا ہوگئی یا دوبارہ ادا کرنی ہوگی۔
اگر مسبوق نے امام کے سلام کے ساتھ سلام پھیر دیا تھا، تو ایسی صورت میں اس کی نماز ادا ہوگئی اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم عام طور پر مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیر لیتا ہے، اس لیے احتیاطاً سجدہ سہو کر لینا چاہیے۔
كما في الهندية: (ومنها) انه لو سلم مع الامام ساهياً أو قبله لا يلزمه سجودالسهو وان سلم بعده لزمه كذا فى الظهيرية هو المختار الخ (91/1)۔