امامت و جماعت

مسبوق امام کے ساتھ سلام پھیردے تو کیا حکم ہوگا ؟

فتوی نمبر :
39189
| تاریخ :
2020-01-27
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسبوق امام کے ساتھ سلام پھیردے تو کیا حکم ہوگا ؟

اگر کوئی مسبوق شخص امام کے ساتھ سلام پھیر دے پھر یاد آجائے اور باقی رکعات پوری کرے تو کیا نماز ادا ہوگئی یا دوبارہ ادا کرنی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر مسبوق نے امام کے سلام کے ساتھ سلام پھیر دیا تھا، تو ایسی صورت میں اس کی نماز ادا ہوگئی اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم عام طور پر مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیر لیتا ہے، اس لیے احتیاطاً سجدہ سہو کر لینا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهندية: (ومنها) انه لو سلم مع الامام ساهياً أو قبله لا يلزمه سجودالسهو وان سلم بعده لزمه كذا فى الظهيرية هو المختار الخ (91/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39189کی تصدیق کریں
0     520
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات