(1)طلاق کنایہ کے الفاظ کون سے ہیں؟
(۲) کیا نماز کے دوران کسی لفظ سے طلاق کی نیت معتبر ہے؟
(۳) اگر مرد نے کوئی بات طلاق کے علاوہ کی نیت سے شروع کرنا چاہی لیکن بات کے وقت نیت نفس کے غلبہ کی وجہ سے بدل گئی تو کس نیت کا اعتبار ہو گا ؟
(۴) اگر کسی کو نمبر ٣ والا مسئلہ بہت پیش آتا ہو کہ اگر اس کا اعتبار کرے تو شادی اس کیلئےممکن نہیں اور گناہ سے بچنا ممکن نہیں توایسا آدمی کیا کرے ؟
(1) طلاق کنائی کے الفاظ کا احاطہ کرنا تو دشوار ہے، البتہ فقہاء کے ہاں کنایہ سے وہ الفاظ مراد ہوتے ہیں جو طلاق کیلئے وضع نہ کیے گئے ہوں بلکہ وہ طلاق اور غیر طلاق دونوں کیلئے استعمال ہوتے ہوں، چنانچہ ہر زبان میں اس طرح کے الفاظ ہوتے ہیں جس سے طلاق کا معنی اور دوسرے معنی کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
(۲) سائل کا یہ سوال سمجھ نہیں آیا اس کی وضاحت کر کے دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
(۳) جس نیت سے بات کی ہے اس کا اعتبار ہو گا۔
(۴) سائل کو شاید شک اور وسوسہ کی بیماری ہے اس لئے اس کو چاہئیے کہ بلاوجہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر اپنے گھر کو خراب نہ کرے، تاہم جب واقعۃً کوئی مسئلہ پیش آجائے تو کسی عالم سے معلوم کر اس پر عمل کرے۔
کمافی الدرالمختار: (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال)اھ(3/297)
وفی اصول الکرخی :ان ما ثبت بالیقین لایزول بالشک (11)