آج کل ہم گھر میں نماز پڑھ رہے ہیں، کیا ہم تراویح کا انتظام کرسکتے ہیں، جماعت کے ساتھ گھر میں، حافظِ قرآن کی عدم موجودگی میں، کیا امام قرآن کو دیکھ کر پڑھ سکتا ہے؟
واضح ہو کہ نماز کے دوران قرآن مجید کو دیکھ کر نماز پڑھانا جائز نہیں اور اس کی وجہ سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، لہٰذا سائل کو چاہئے کہ تروایح میں دیکھ کر قرآن کریم سنانے کے بجائے تراویح پڑھانے کیلئے کسی حافظ قرآن کا انتظام کرلے یا ’’الم تر کیف‘‘ سے تراویح پڑھائے۔
کما فی کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال: عن ابن عباس قال: نہانا أمیر المؤمنین عمر أن نؤم الناس فی المصحف ونہانا أن یؤمنا إلا المحتلم۔ (ج۸، ص۲۶۳)۔
وفی البحر الرائق شرح کنز الدقائق: (قولہ وقراءتہ من مصحف) أی یفسدہا عند أبی حنیفۃ وقالا ہی تامۃ لأنہا عبادۃ انضافت إلی عبادۃ إلا أنہ یکرہ لأنہ تشبہ بصنیع أہل الکتاب ولأبی حنیفۃ وجہان أحدہما أن حمل المصحف والنظر فیہ وتقلیب الأوراق عمل کثیر الثانی أنہ تلقن من المصحف فصار کما إذا تلقن من غیرہ۔ الخ (ج۴، ص۷۳)۔
وفی المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی: عن یعقوب عن أبی حنیفۃ فی إمام یصلی فی رمضان أو غیرہ، ویقرأ من المصحف، فصلاتہ فاسدۃ عند أبی حنیفۃ، وعند أبی یوسف ومحمد رحمہما اللہ لا تفسد صلاتہ ویکرہ۔ (ج۲۰، ص۳۴۷)
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0