کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمادی الاولیٰ جِسے پشتو میں (دریمہ خور) کہتے ہیں، اس مہینہ میں اپنی رہائش تبدیل کرنا ازروئے شریعت صحیح ہے یا نہیں؟ جبکہ بعض لوگوں کا کہنا کہ اس مہینہ میں رہائش تبدیل کرنے سے مصائب آتےہیں۔ اور اس طرح رات کے وقت جھاڑو لگانا، کنگھی کرنا ازروئے شریعت کیسا ہے؟
سوال میں مذکور تمام امور کا بوقتِ ضرورت مذکور اوقات میں بجالانا شرعاً ممنوع یا قبیح نہیں، بلکہ یہ محض توہّم پرستی اور بے بنیادباتیں ہیں جو دین سے دُوری اور جہالتِ محض کی بناء پر عوام میں مروّج ہو چکی ہیں، لہٰذا ان پر اعتماد کرنے سے احتراز لازم ہے۔ واللہ أعلم بالصواب!
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0