کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱۔ مسبوق یعنی جس کی ایک رکعت یا دو رکعت رہ گئی ہو ں وہ اگر اپنی فوت شدہ نماز کی قضاء کے لیے کھڑا ہونے کی بجائے امام کے ساتھ بھول کر ایک طرف سلام پھیر دیا پھر یاد آنے پر کھڑا ہو کر اپنی نماز پوری کی تو اس پر سجدہ سہوہ واجب ہوگا یا نہیں؟
۲۔ اگر وتر کی تیسری رکعت میں نمازی بھول کر رکوع میں چلا جائے، لیکن گھٹنوں کو ہاتھ لگے ہوں اور یاد آنے پر واپس قیام کو لوٹ آئے اور پھر دعا ءِ قنوت پڑھ کر دوبارہ رکوع میں جائے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟
مذکورہ دونوں صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے ، اور سجدہ کرنے نماز درست ہو جائے گی، جبکہ امام کے ساتھ یا اس سے قبل سہواً سلام پھیرنے کی صورت میں سجدہ سہو بھی لازم نہیں۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت و إلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفرداً اھ(2/ 82)۔
وفیه أیضاً: لو تذكر القنوت في الركوع فالصحيح أنه لا يعود، ولو عاد و قنت لا يرتفض ركوعه وعليه السهو لأن القنوت إذا أعيد يقع واجبا لا فرضا اھ(2/ 81)۔
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0