میں امید کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ خیریت سے ہوں گے ، میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب نے کچھ عرصہ پہلے مختلف لوگوں سے قرض لیا تھا، جس کی لگ بھگ قیمت 7 لاکھ ہے ، اس میں سے تین لاکھ پچاس ہزار میں واپس کر رہا ہوں، ماہانہ قسطوں کی بنیاد پر، اور باقی تین لاکھ پچاس ہزار میرے والد ادا کر رہے ہیں ، میں نوکری کرتا ہوں اور میری آمدنی بھی ٹھیک ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے قربانی کرنی چاہیئے یا نہیں؟ یا جو قرض میں ادا کر رہا ہوں اس کی نسبت سے کیا حکم ہے؟
سائل اگر خود مقروض نہ ہو، بلکہ والد صاحب کے ساتھ اس کے قرض کی ادائیگی میں معاونت کر رہا ہو ، اور خود سائل کے پاس ضروریاتِ اصلیہ سے زائد بقدرِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی) مالیت موجود ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ قربانی کرنی لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔
كما في الفتاوى الهندية: ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب وكذا لو كان له مال غائب لا يصل إليه في أيامه ولا يشترط أن يكون غنيا في جميع الوقت حتى لو كان فقيرا في أول الوقت ثم أيسر في آخره تجب عليه ولو كان له مائتا درهم فحال عليها الحول فزكى خمسة دراهم ثم حضر أيام النحر وماله مائة وخمسة وتسعون لا رواية فيه ذكر الزعفراني أنه تجب عليه الأضحية لأنه انتقص بالصرف إلى جهة هي قربة فيجعل قائما تقديرا حتى لو صرف خمسة منها إلى النفقة لا تجب ولو اشترى الموسر شاة للأضحية فضاعت حتى انتقص نصابه وصار فقيرا فجاءت أيام النحر فليس عليه أن يشتري شاة أخرى فلو أنه وجدها وهو معسر وذلك في أيام النحر فليس عليه أن يضحي بها ولو ضاعت ثم اشترى أخرى وهو موسر فضحى بها ثم وجد الأولى وهو معسر لم يكن عليه أن يتصدق بشيء كذا في البدائع اھ (5/ 292) -