میں نے ایک پاکستانی دوست کو چائنیز کرنسی میں قرض دیا (اس وقت جب قرض دیا تھا تو چائنیز کرنسی کا ایک یارن، پاکستانی کرنسی کے ساڑے تئیس 23.5 روپے کا تھا) کچھ عرصہ بعد اس نے مجھے قرض پاکستانی کرنسی میں ادا کیا، (اس وقت چائنیز کرنسی کا ایک یارن، پاکستانی کرنسی میں 24 روپے برابر ہے) اب یہ اضافی رقم بن رہی ہے کرنسی ریٹ کی وجہ سے یہ واپس کرنا جائز ہے یا نہیں؟
سائل نے چونکہ اپنے دوست کو چائینز کرنسی میں قرض دیا اس لیے اب اس کی واپسی بھی اسی کرنسی میں یا واپسی کے دن اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے پاکستانی کرنسی میں واپس کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف وجعله في البزازية وغيرها قول الإمام وعند الثاني عليه قيمتها يوم القبض وعند الثالث قيمتها في آخر يوم رواجها وعليه الفتوى.الخ (5/162)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0