السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مفتی صاحب سوال کچھ اس طرح ہے، کہ ایک شخص پاکستان سے محنت مزدوری کیلئے سعودی عرب جارہا ہے اس سلسلے میں اُسے جانے کیلئے یہاں پاکستان میں ایک مخصوص روپے جمع کرکے جانا ہے اسکے لئے سعودی عرب میں محنت مزدوری کرنے والے اپنے رشتہ دار یا کسی دوست سے ایک لاکھ روپے پاکستانی بطورِ قرض مانگتا ہےجو کہ سعودیہ میں ہے اور دوست اسے وہ رقم بھیجتے ہیں، رقم بھیجتے وقت اُن کے درمیان یہ معاہدہ طے نہیں پاتا ہے کہ مذکورہ رقم وہ سعودی ریال کے حساب سے وصول کرے گا ، اب جس شخص نے قرضہ لیا ہے وہ بعد میں سعودیہ جاکر وہ قرض ادا کرنا چاہتا ہے تو جس شخص نے قرض دیا ہے وہ اب وہاں کے حساب سے رقم واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا قرض لینے والا شخص ریال کے حساب سے قرض واپس کرے گا یا روپےکے حساب سے؟ دینِ اسلام کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں تاکہ فریقین کے مابین مسئلہ حل ہو سکے، اگر قرض دیتے وقت وہاں کرنسی کا کوئی معاہدہ نہیں ہو اتھا تو کیا اب ریال کے حساب سے رقم واپس لینا اُن کے لئے جائز ہوگا یا نہیں ؟
سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ سعودی دوست نے شخصِ مذکور کو براہِ راست ریال دیے ہیں یا پاکستانی کرنسی میں ریال تبدیل کروا کے پاکستانی کرنسی دی ہے، تاکہ اس کے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاتا، تاہم اگر سعودی دوست نے سعودیہ سے منی چینجر وغیرہ کے ذریعے ریال پاکستانی کرنسی میں تبدیل کروا کر مذکور دوست کو پاکستانی کرنسی بھیجی ہو اور مذکورشخص کو پاکستانی کرنسی ہی موصول ہوئی ہو تو ایسی صورت میں شخص مذکور پر پاکستانی کرنسی میں ہی قرض کی ادائیگی لازم ہوگی، لہذا سعودی دوست کا ریال کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا ، تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال دوبارہ تفصیل سے لکھ کر ارسال کردیں ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
کما فی رد المحتار : و إن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه ، و كذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلھا ، و لا ينظر إلى غلاء الدراهم ولا إلى رخصها۔اھ (5/162)
و فی الدر المختار : (و إلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل و تقابضا فيه) أي المجلس (صح، و) العوضان (لا يتعينان) حتى لو استقرضا فأديا قبل افتراقهما أو أمسكا ما أشار إليه في العقد و أديا مثلهما جاز۔اھ (5/258)-
و فی الدر المختار : فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصا۔اھ (4/320)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0