کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام در ج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ صورت مسئلہ یہ ہے کہ مسمی نو رسید نے 2016 میں اپنے بھانجوں سے دبئی میں کسی کام کےلئے درہم لئے تھے، دیتے وقت یہ تعین نہیں کیا تھا کہ در ہم واپس کرینگے یا پاکستانی کرنسی، اب یہ مسمی نور سید سے درہم کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ اس وقت در ہم کی قیمت خرید اٹھائیس روپے پاکستانی تھی ، اور اب تقریباً 75 یا 77 کے درمیان چل رہی ہے، بصورت ہذا مسمى نورسید اپنے اقرباء اور رشتہ داروں کو پہلی صورت یعنی 28 روپے کے حساب سے پیسےواپس کریگا یا موجودہ ریٹ میں؟ مفصل مدلل جواب دیکر ممنون فرمائیں ،دیتے وقت واپسی رقم کی تعین نہیں کی تھی کہ درہم کی صورت میں دیگا یا پاکستانی کرنسی کی صورت میں ۔
واضح ہو کہ جس کرنسی میں قرض لیا جائے اسی کرنسی میں یا پھر فریقین کی رضامندی سے قرض لوٹاتے وقت موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق کسی دوسری کرنسی میں قرض واپس کرنا لازم اور ضروری ہوتا ہے ، لہذا سائل نے اپنے بھانجوں سے 2016 میں جتنے درہم بطور قرض لئے تھے، اب سائل کے ذمہ اتنے ہی درہم اپنے بھانجوں کو واپس کرنا لازم اور ضروری ہوگا،کرنسی کی قیمت میں اتار چڑہاؤ کی وجہ سے سائل کے لئےقرض کی واپسی میں کمی بیشی کرنا جائز نہ ہوگا ،البتہ اگر سائل اور سائل کے بھانجے درہم کے بجائے پاکستانی روپے میں قرض کی واپسی پر رضامند ہوں، تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ درہم کے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق پاکستانی کرنسی میں قرض واپس کرنا لازم اور ضروری ہوگا ۔
کما في رد المحتار: تحت ( قوله فلاعبرة لغلائه و رخصہ) فيه أن الكلام في الكساد، و هو ترك التعامل بالفلوس و نحوها( إلى قوله) و إن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس ، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه الا مثل عدد الذي أخذه الخ (فصل في القرض ، ج5 ص 170 ، ط : سعید)-
وفي بدائع الصنائع : قولهما أن الواجب في باب القرض رد مثل المقبوض (إلى قوله) أن رد المثل كان واجباً و الفائت بالكساد ليس الا وصف الثمنية و هذا وصف لا تعلق لجواز القرض به الخ (كتاب القرض ، ج ۷ ص ۳۹ ، ط : سعید)-
وفي الفتاوى الهندية : والقرض هو أن يقرض الدراهم والدنانير أو شيئا مثليا يأخذ مثله في ثاني الحال، والدين هو أن يبيع له شيئا إلى أجل معلوم مدة معلومة كذا في التتارخانية. (الباب السابع والعشرون في القرض والدين، ج 5، ص 566، ط : دار الفكر، بروت)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0