کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے عمرو سے پاکستانی 16000 روپے پانچ ماہ کیلئے قرض لیا، عمرو نے دیتے وقت یہ شرط لگائی کہ آج کے ریٹ کے حساب سے پانچ ماہ کے بعد ترکی کرنسی میں واپس کرے گا ( یعنی آج 16000 روپے ترکی 1000 لیرا بنتاہے) پھر پانچ ماہ کے بعد واپسی کرتے وقت 16000 روپے ترکی 9000 لیرا بن گیا تو اب سوال یہ ہے کہ زید کس وقت کے ریٹ کے حساب سے قرض واپس کرے گا ؟ اور عمرو کا مذکور شرط لگانا شرعا درست ہے؟
سوال میں اس بات کی پوری طرح وضاحت نہیں ، کہ زید اور عمرو کے درمیان جو معاملہ ہوا تھا یہ قرض کا معاملہ تھا ، یا خریدوفروخت کا ؟ تاکہ اس کے مطابق اس مخصوص صورت کا جواب دیا جاتا ،تاہم ا گر سوال میں مذکور معاملہ قرض کا ہو تو قرض جس کرنسی میں لیاجائے اس کی واپسی چونکہ شرعاً اسی کرنسی میں لازم ہوتی ہے ، اس لئے جب زید نے عمرو سے پاکستانی کرنسی میں سولہ ہزار (16000) روپے بطورِ قرض لیےہیں تو شرعاً زید کے ذمہ وہی سولہ ہزار (16000) روپے کی ادائیگی لازم ہے ، جبکہ عمرو کا قرض دیتے وقت ترکی کرنسی میں قرض کی واپسی کی شرط لگانا ، اور پھر ترکی کرنسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں ، البتہ اگر سوال میں مذکور معاملہ قرض کا نہ ہو بلکہ خرید و فروخت کا ہو بایں طور کہ عمرو نے زید کے سا تھ پاکستانی کرنسی سولہ ہزار (16000) روپے کا تبادلہ ترکی کرنسی میں اس وقت کے ریٹ کے حساب سے کیا ہو تو یہ معاملہ شرعاً درست ہوا ہے ، اور چونکہ معاملہ کے وقت 16000 پاکستانی روپے کی قیمت ایک ہزار (1000) ترکی لیرا تھی ، اس لئے اب پانچ ماہ کے بعد زید پر حسبِ معاہدہ ایک ہزار (1000) ترکی لیرا کی ادائیگی لازم ہوگی ۔
فی الشامیۃ : و إن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه اھ (5/162)۔
و فی فقہ البیوع : و لما كانت عملات الدول أجناساً مختلفة جاز بيعها بالتفاضل بالإجماع (الی قولہ ) و أما عند أبي حنيفة و أصحابه فلأنّ تحريم بيع الفلس بالفلسين مبني عندهم على كون الفلوس أمثالاً متساوية قطعاً فيبقى عند التفاضل فضل خال عن العوض و لكن عملات البلاد المختلفة لما كانت أجناساً مختلفة لم تكن أمثالاً متساویۃ فلا يتصور الفضل الخالي عن العوض اھ (2/737) ۔
و فیہ ایضاً : و یجوز فیھا النسیۃ ان وقعت المبادلۃ بغیر جنسھا مثل ان تباع الدولارات الامریکیۃ بالربیات الباکستانیۃ بشرط ان تکون المبادلۃ بسعر یوم المبادلۃ حتی لاتکون ذریعۃ للربا اھ (2/733) ۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0