السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی سمیع اللہ نے ایک دوکان نقد (10000000) ایک کروڑ کی خریدی، جس میں بائع کو میں نے ( 5000000)پچاس لاکھ روپے ادا کئے جو میرے پاس تھے، اور باقی (5000000 ) پچاس لاکھ میرے ماموں نے مالک مکان کو ادا کئے اور شرط یہ لگائی کہ یہ پیسے (5000000 ) مجھے (ماموں) کو ادا کرنے تک آپ مجھے اس دو کان کا کرایہ مثلا ماہانہ (20000) بیس ہزار ادا کرینگے ۔ اب سوال یہ ہے کہ میرے ماموں کےلئے یہ پیسے بطور کریہ لینا درست ہے یا نہیں ؟ اور اگر لی ہو تو اس میں کیا حکم ہوگا ؟
نوٹ : ماموں نے مذکور رقم بطور قرض دی ہے، اس میں شرکت وغیرہ کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی طرح کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کے ماموں نے سائل کے ساتھ مشترکہ طور پر دکان نہ خریدی ہو، بلکہ سائل کو پچاس لاکھ روپے بطور قرض دئیے ہوں، تو ایسی صورت میں سائل کے ماموں کا قرض کی رقم واپس لینے تک سائل سے ہر ماہ دکان کے کرایہ کے نام سے دو ہزار روپے وصول کرنا قرض پر منافع (جو سود کے زمرے میں آتا ہے) وصول کرنے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے، او راب تک جتنی رقم وہ اس مد میں وصول کر چکا ہے، وہ سائل کو واپس کرنا اور دونوں کو اس سودی معاملے پر توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کے لئے سودی معاملے سے اجتناب لازم اور ضروری ہے۔
کما قال اللہ تعالی: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ، فَإِن لَّم تَفعَلُواْ فَأذَنُواْ بِحَربٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ إِن تُبتُم فَلَكُم رُءُوسُ أَموَٰلِكُم لَا تَظلِمُونَ وَ لَا تُظلَمُونَ (سورۃ البقرہ، الآیۃ:278-279)۔
و فی صحيح مسلم : عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء (باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج 5، ص50، رقم : 1598، ط: دار الطباعة العامرة، تركيا)۔
وفی السنن الكبرى للبيهقي : عن فضالة بن عبيد صاحب النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا. (باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا ، ج 11، ص294، رقم : 11037، ط: مركز هجر للبحوث والدراسات العربية والإسلامية، القاهرة)۔
و فی الدر المختار : وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن الخ (فصل في القرض، ج 5، ص166، ط: سعيد)۔
وفي رد المحتار : تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به الخ (مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج 5، ص166، ط: سعيد)۔
وفيه أيضا : والحاصل : أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبهالخ (مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج 5، ص99، ط: سعيد)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0