معزز ! میں یہاں ہوم فنانس پر مبنی قرضوں سے متعلق مسئلے پر بات کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں، جو بہت سے اسلامی نامی ، بینکوں کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان نے حال ہی میں ہاؤسنگ لونزفنانس اسکیموں کا آغاز کیا ہے، اس مسئلے کو محتاط پڑھنے کے ذریعے حقائق کی تفصیلات اور خاص حساسیت حاصل کرنے کے لیے ، تاہم میں نے میزان بینک ہوم فنانس پر مبنی منصوبہ (اس کے ساتھ منسلک) پایا جس میں انہوں نے واضح طور پر ذکر کیا ہے کہ مذکور پالیسی منظم فتوی پر مبنی ہے جو کہ اسلامی شریعت کے مطابق ہے، اسلامی شرعیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہمارے لئے کیا حکم ہیں؟
I am writing here to discuss the issue related to Home-Finance based loans offering many "Islamic named" Banks as well as Government of Pakistan has recently launched Housing Loans Finance schemes.
In the light of fulfilling Islamic teachings, I tried to counter this issue through a careful reading to seek the factual details and particular sensibility. However, I found a Meezan Bank Home-Finance based plan (attached herewith) in which they have clearly mentioned that the said policy is organized Fatwa based which is as per Islamic Shariah.
Now, I am seeking your appropriate guidance in the light of Holy Qur'an in order to fulfill requirements of Islamic Shariah.
Highly appreciate your concern in this regard.
ہمارے معلومات کے مطابق میزان بینک کے اکثر وبیشتر امور مستند علماء کرام پر مشتمل شرعیہ بورڈ کے ذیر نگرانی انجام پاتے ہیں، لہذا سائل کے لیے میزان بینک سے مذکور ہوم اسکیم کے تحت گھر لینے کی گنجائش ہے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0