میں حضرت مولانا ذکر یا رحمہ اللہ کے سلسلہ میں بیعت ہوں، وہ اجتماعی ذکر کرواتے ہیں، کیا اجتماعی ذکر کرنا ٹھیک ہے؟
جی ہاں! ذکر بالجہر خواہ اجتماعی شکل میں ہو یا انفرادی، شرعاً جائز اور درست ہے، احادیثِ مبارکہ اور سلفِ صالحین سے اس کا ثبوت ملتا ہے، البتہ ذکر بالجہر میں اگر کسی کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں دوسروں کی رعایت کے ساتھ ذکر کرنا لازم ہے۔
کما في صحيح البخاري: عن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم – "يقول الله تعالى: أنا عند ظن عبدي بي، وأنا معه إذا ذكرني، فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي وإن ذكرني في ملأ، ذكرته في ملأ خير منهم. (1/405)
وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفاً وخلفاً على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها، إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ اھ (1/470)