السلام علیکم ورحمۃ اللہ !
عرض یہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں ہر سال حکومتی نوکریوں کی بھرتیاں ہوتی ہیں، اور اس کے لئے ہمیں کوئی سورس لگانی پڑتی ہے، جس کا ہمیں ایک طے کردہ معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے اس شخص کو اور اب عرف میں یہی غالب ہے یہ نوکریاں پیسے ادا کر کے ہی حاصل کی جاتی ہیں، کیا یہ جائز ہے ؟
واضح ہو کہ رشوت دینے اور لینے والے پر اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، اس لیے سرکاری نوکری کے حصول کے لیے رشوت دینا تو جائز نہیں ، البتہ سرکاری نوکری کے لیے اہلیت اور شرائط و ضوابط پر پورا اترنے کے با وجود بھی اگر رشوت دیئے بغیر نوکری نہ مل سکتی ہو تو ایسی صورت میں اپنے حق کے حصول کے لیے رشوت دینے کی بھی گنجائش ہے ، مگر لینے والے کے لیے بہر حال ناجائز و حرام ہے اس پر لازم ہے کہ اس طرح کی لی ہوئی رقم مالک کو واپس کر کے مؤاخذہ دنیوی واخروی سے سبکدوشی حاصل کرے، بصورت دیگر اخروی مواخذے سے خلاصی حاصل نہ ہو گی۔
ففي مسند الامام احمد رحمه الله: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ (601/2)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ. (6/ 423) والله اعلم بالصواب