بھائی جان میں بہت مشکل میں ہو ں ،بھائی جان میرے بیٹے کی وفات ہو گئی 8 ماہ پیدائش سے پہلے، اس کے بعد ہماری اور ان کی فیملی میں بہت کشیدگی زیادہ ہو گئی ، پہلے سے بھی چل رہی تھی اور سب طلاق کا کہنے لگے اور طلاق کی کاروائی شروع ہو گئی ،کہ مجھے طلاق کے بارے میں صرف جو علم تھا ایک تو حیض کی حالت میں نہیں دیتے اور طلاق کے ماہ بعد دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں ، اب اس کے بعد وکیل نے کہا طلاق کے ایک نوٹس کے ایک ماہ بعد دوسرا نوٹس اور پھر ایک ماہ بعد تیسر انوٹس بھیجوا دیا،اس کے بعد مجھے پتا چلا کے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا بغیر حلالے کے، میں اور زیادہ پریشان ہو گیا، جبکہ میری نیت ایسی نہیں تھی میں طلاق حسن کو طلاق احسن سمجھتا رہا ،اللہ کی قسم میری نیت اس سے دوبارہ نکاح کی تھی کہ کچھ عرصے بعد معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا، اور میرے نوٹس کے بعد پتہ چلا کے پہلا نوٹس حالت حیض میں ملا اس میں گنجائش ہے ۔پلیز!
سائل نے وکیل کے کہنے پر یکے بعد دیگرےطلاق کے تین نوٹس اگرعدت کے دوران بیوی کو بھیج دیئے ہوں، اگر چہ سائل کی نیت رجوع کی تھی یا بیوی اس دوران حیض کی حالت میں تھی، تب بھی سائل کے تین نوٹس بھیجنے کی وجہ سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع بھی نہیں ہو سکتا ہے اور نہ بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في الدر المختار: ( والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين(المختار) في طهر واحد لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه. أو واحدة اھ(۲۲۳/۱)۔
وفي الهداية في شرح بداية المبتدي: وإذا طلق الرجل امرأته في حالة الحيض وقع الطلاق " لأن النهي عنه لمعنى في غيره وهو ما ذكرناه فلا ينعدم مشروعيته " ويستحب له أن يراجعها " لقوله عليه الصلاة والسلام لعمر مر ابنك فليراجعها وقد طلقها في حالة الحيض " وهذا يفيد الوقوع والحث على الرجعة ثم الاستحباب قول بعض المشايخ والأصح أنه واجب عملا بحقيقة الأمر ورفعا للمعصية بالقدر الممكن يرفع أثره وهو العدة ودفعا لضرر تطويل العدة اھ (۳/ ۲۳۲)