حال میں میری نظر سے مجلس علماء جنوبی افریقہ کا فتوی گزرا ہے، جس کے مطابق ویکسین بشمول 19,COVID ویکسین حرام ہے، فتوی کے مطابق ویکسین کے اجزاء میں حرام اشیاء جیسے aborted fetus tissoes جانورو کا خون tiussues نقصان دہ کیمیکلز اور neurotoxins شامل ہیں ،فتوی میں بخاری کی حدیث، اللہ نے آپ کی شفاء ان چیزوں میں نہیں رکھی جو اس نے آپ کے لیے منع کیاہے، بیہقی بخاری، کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، مزید یہ کی ویکسین کے انسانی جسم پر دور رس نقصانات بھی ثابت ہیں، براہ مہربانی ویکسین COVID 19 کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق تفصیل سے وضاحت فرمائیں؟
مجلس علماء جنوبی آفریقہ کا فتوی ہماری نظر سے نہیں گزرا کہ ان علماء نے کس کی تحقیق کی بناء پر ویکسین کو حرام قرار دیا ہے، اور اس کی تفصیل کیا ہے؟ اگر ان حضرات کے ہاں کوئی تحقیق اور ٹھوس ثبوت موجود ہو تو اس پوری تفصیل کو دنیا کے سامنے لانا چاہیے تاکہ دیگر ممالک کے لوگ بھی اس مضر صحت اور حرام ویکسین سے بچ سکیں، تاہم مذکور وائرس دنیا کے بیشتر مسلم وغیر مسلم ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اور حکومتی سطح پر غالبا اس کا جان لیوا ہونا تسلیم بھی کر لیا گیا ہے، اور خبر وں کے ذریعے عوام کو اس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی مہم بھی چلائی جارہی ہے، چنانچہ اس تناظر میں اگر کوئی شخص اپنی ذاتی تحقیق سے یا حکومتی اتھارٹی کے ذریعے یا کسی مستند ماہر دیندار ڈاکٹر سے اس بات کا اطمینان کرلے کہ اس کے اجزاء ترکیبی میں کوئی حرام یا مضر صحت جزو شامل نہیں، تو احتیاطی تدابیرکے طور پر ویکسین لگواسکتے ہیں، اوراہل حکومت کو بھی چاہیے کہ اس سلسلہ میں کسی قسم کے جبر کے بجائے دوائی پراجزاء ترکیبی اور حکومتی اتھارٹی کی رائے درج کرنے کا اہتمام کریں، تاکہ عوام شکوک وشبہات میں مبتلاء نہ ہوں۔
کما فی الدرالمختار: فروع] اختلف في التداوي بالمحرم وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان وعليه الفتوى الخ (1/210)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله اختلف في التداوي بالمحرم) ففي النهاية عن الذخيرة يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر. وفي الخانية في معنى قوله - عليه الصلاة والسلام - «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» كما رواه البخاري أن ما فيه شفاء لا بأس به كما يحل الخمر للعطشان في الضرورة، وكذا اختاره صاحب الهداية في التجنيس فقال: لو رعف فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وأنفه جاز للاستشفاء، وبالبول أيضا إن علم فيه شفاء لا بأس به، لكن لم ينقل وهذا؛ لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء كحل الخمر والميتة للعطشان والجائع. اهـ من البحر. وأفاد سيدي عبد الغني أنه لا يظهر الاختلاف في كلامهم لاتفاقهم على الجواز للضرورة، واشتراط صاحب النهاية العلم لا ينافيه اشتراط من بعده الشفاء ولذا قال والدي في شرح الدرر: إن قوله لا للتداوي محمول على المظنون وإلا فجوازه باليقيني اتفاق كما صرح به في المصفى (الی قولہ) ونص ما في الحاوي القدسي: إذا سال الدم من أنف إنسان ولا ينقطع حتى يخشى عليه الموت وقد علم أنه لو كتب فاتحة الكتاب أو الإخلاص بذلك الدم على جبهته ينقطع فلا يرخص له فيه؛ وقيل يرخص كما رخص في شرب الخمر للعطشان وأكل الميتة في المخمصة وهو الفتوى.الخ (1/210)۔
وفیہ ایضاً: تحت (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان) (الی قولہ) الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل، وقد توقف النبي - صلى الله عليه وسلم - مع أنه هو المشرع في تحريم الخمر أم الخبائث حتى نزل عليه النص القطعي، الخ (6/459)۔
وفی تفسیر الوصول الی منھاج الوصول: والاصل فی المضار أی الاشیاء الضارۃ التحریم، لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام، لاضرر ولاضرار فی الاسلام رواہ ابو داؤد المراسیل ، عن واسع بن حبان عن أبی لبابة عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بلفظ، لاضرار فی الاسلام ولا اضرار الخ (6/96)۔
پینٹ فولڈ کرکے نماز پڑھنے کا حکم -خاندانی منصوبہ بندی کے جائز و ناجائز طریقے
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0شادی سے قبل اپنی مرادنگی چیک کرنے کے لئے کسی غیر عورت سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0ہو میو پیتھک کی ادویات میں الکحل شامل ہوتا ہے تو ان کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے؟
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0مردوں اور عورتوں کے لیے خضاب، اور الکحل والی پرفیوم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0