اگر کوئی شخص عمرہ پر جارہا ہو، اور روضۂ مبارک پر حاضری کے لئے بھی جانے کا شرف نصیب ہو جائے، اور کوئی اس کے لئے کہے کہ میں بہت بیمار ہوں ، اور میرے ایمان جانے کا خطرہ ہے، اس لئے آپ روضۂ پاک پر نبی علیہ السلام سے میری فریاد کرنا کہ نبی علیہ السلام میرے اللہ کے دربار میں دعا کریں، کیا اس طرح دعا کرائی جاسکتی ہے؟ کیا یہ شرک ہے یا صرف جائز یا نا جائز ہے؟
عمرے پر جانے والے شخص سے سوال میں ذکر کردہ طریقہ کے مطابق دعا کی درخواست کرنا تو شرعاً درست نہیں، تاہم اگر کسی نے لاعلمی میں اس طرح کی درخواست کی ہو تو اس کے اس عمل کو شرک نہیں کہا جا سکتا، البتہ اگر اس کے بجائے اس طرح دعا کی درخواست کی جائے کہ”حضور اکرمﷺ کے وسیلے سے میرے لئے دعا کر دے“ تو اس میں قباحت نہیں۔
کما في صحيح البخاري: عن أنس: أن عمر بن الخطاب: كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب. فقال: أللّٰهُمَّ إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا، قال فیسقون.اھ (1/342)
وفي جامع الترمذي: عن عثمان بن حنيف "أن رجلا" ضرير البصر أتى النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال: ادع الله أن يعافیني. قال: إن شئت دعوت، وإن شئت صبرت فهو خير لك. قال: فادعه، قال: فأمره أن يتوضأ فیحسن وضوءه ويدعو بهذا الدعاء: أللّٰهُمَّ إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلى ربي فی حاجتي هذه لتقضى لي، أللّٰهُمَّ فشفعه فی هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه من حديث أبي جعفر وهو الخطمي اھ.(2/536)
وفي مجمع بحار الأنوار: فإن منهم من قصد بزيارة قبور الأنبياء والصلحاء أن يصلي عند قبورهم ويدعو عندها ويسألهم الحوائج، وهذا لا يجوز عند أحد من علماء المسلمين، فإن العبادة وطلب الحوائج والاستعانة حق لله وحده.اھ (2/444)