میرا سوال یہ تھا کہ میری بیوی کی اجازت سے میں نے اپنی بیوہ بھابھی سے نکاح کیا، اب میری بیوی سو کن کو برداشت نہ کرتےہوئے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے، جو کہ میں دینا نہیں چاہتا، آپ نے جواب ارسال کیا تھا جس کیلئے میں مشکور ہوں، آپ نےنفقہ کا ذکر کیا تھا جس کیلئے میں کوشش کرتا ہوں ، کہ برابری ہو سکے ، مگر اہم بات رات گزارنے والی ہے کہ میری پہلی بیوی مجھےاپنے قریب بھی آنے نہیں دیتی ، ہاتھ تک لگانے نہیں دے رہی، اور نہ ہی مجھ سے بات کرنا گوارا کرتی ہےمیرے جو حقوق ہیں، ان کا خیال بالکل نہیں رکھ رہی ہے ، ایسی صورت میں, میں کیا کروں ، جب کہ میں اسے طلاق نہیں دینا چاہتا۔
سائل کی طرف سے دونوں بیویوں کے حقوق کی ادائیگی کے باوجو د اگر پہلی بیوی شوہر سے صرف سوکن کی وجہ سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہو، اور اس کے حقوق کا خیال نہ رکھتی ہو، تو اس کی وجہ سے سائل کی مذکور بیوی سخت گناہ گار ہو رہی ہے، ایسی عورت کےمتعلق احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں، اس لئے سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ بلاوجہ شوہر کے حقوق پامال نہ کرے اوراسے حقوق ِزوجیت سے نہ روکے ، اور اب تک جو گناہ ہوا ہے ، اس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کر کے شوہر سے معافی بھی مانگ لے اور اپناگھر بسانے کی فکر کرے، چناچہ سائل اگر دونوں بیویوں کے حقوق ادا کر رہاہو، تو گناہ گار بھی نہیں، اس لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کمافی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح» (4/116)-
وفی المرقاہ شرح المشکاہ: (قال) أي: النبي (ثم يجيء أحدهم فيقول ما تركته) أي: فلانا (حتى فرقت بينه وبين امرأته) : هذا، وإن كان بحسب الظاهر أمرا مباحا، وظاهره خير، ولذا قال تعالى: {وإن يتفرقا يغن الله كلا من سعته} [النساء: 130] ، ولكنه من حيث إنه قد يجر إلى المفاسد يصير مذموما، ويحث عليه الشياطين، ويفرح به كبيرهم، ولذا قال - عليه الصلاة والسلام -: " «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» ) .(1/142)-