السلام علیکم !
ایک مرتبہ میں بہت غصے میں تھا اپنی بیوی کے ساتھ بحث مباحثہ کر رہا تھا , دفتر سے لیٹ آنے کی وجہ سے ، اس کو یقین دلانے کے لئے میں نے اپنا ہاتھ قرآن پر رکھ کر کہا کہ اگر میرا کسی اور لڑکی یا عورت کے ساتھ غیر شرعی رابطہ یا تعلقات ہوں تو "میرےاور آپ کے در میان جدائی " نیز میں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ کہا تھا کہ واٹس ایپ، فون ، یا فیس بک یا کسی اور ذریعے سے کسی لڑکی یا عورت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، مہربانی کر کے مجھے بتائیں کہ میرا کسی لڑکی یا عورت کے ساتھ غیر شرعی تعلق اور رابطہ نہ ہونے پر کیا میر ارشتہ یا تعلق میری بیوی کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے ؟
سائل کا بیان اگر واقعۃْ درست اور مبنی بر حقیقت ہو , اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائل کا غیر عورتوں سے رابطہ یا ناجائز تعلقات نہ ہوں تو مذ کور جملہ " میر ے اور آپ کے در میان جدائی " کہنے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی لہذا سائل اور اسکی بیوی حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم آئندہ کے لئے اس معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
كما في الهداية :وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامراته إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق اھ( ج : 2 ص : 385)۔
وفي الجوهرة النيرة: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق إلى قوله فاذا وجد الشرط والمرأة في ملكه وقع الطلاق( ج : 2 ص (110) ۔
وفى تبيين الحقائق: قال رحمه الله : إنما يصح (لتعليق) في الملك كقوله لمنكوحته : و إن زرت فأنت طالق( إلى قوله) فيقع بعده أي يقع الطلاق بعد وجود الشرط اھ (3/109)۔