السلام علیکم!
عرض ہے کہ میرا نام سید آصف شاہ بن سید منظور شاہ ضلع سکھر گاؤں ڈبر سے، میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو غصے میں آکر کسی اور سے لکھوا کر کاغذ پر طلاق دی جس پر میں نے اپنے دستخط نہیں کیے تو کیا یہ طلاق ہوگئی یا نہیں ؟ مہربانی کر کے رہنمائی کریں ؟ تحریر نامہ منسلک ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق اگرچہ طلاق نامہ پر دستخط نہ کیے ہوں لیکن جب اس نے از خود طلاق نامہ بنوایا ہو تو اس سے اسکی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما في التنزيل العزيز : "فان طلقها فلا تحل له حتى تنكح زوجا غيره (البقرة: 230 )
وفي احكام القرآن للجصاص : قوله تعالى "فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره منتظم لمعان ، منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنکے زوجا غيره ، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد و الوطء جميعا اھ(ج 1 ص (472)۔
و في الدر المختار : (واقسامه ثلاثة : حسن، واحسن (الى قوله) (والبدعى ثلاث متفرقة) او ثنتان بمرة او مرتين في طهر واحداھ (ج 4 ص : (434)۔
وفي الجوهرۃ النیرۃ: واذا كان الطلاق ثلثا في الحرة أو اثنتین في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاح صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها المراد بالدخول الوطی حقيقة اھ(ج 2 )128 )۔
وفي الرد: و لو قال للكاتب اكتب طلاق امراتی كان اقرارا بالطلاق وان لم يكتب ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقراه على الزوج فاخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به اليها فاتاها وقع ان اقرالزوج انه كتابه او قال للرجل ابعث به اليها (3/246)۔