محترم مفتی صاحب !
کیا آپ اس بات کی راہ نمائی کر سکتے ہیں کہ قیامت کے دن بندے کی نسبت کس کی طرف ہوگی والد کی طرف یا والدہ کی طرف ؟مثال کے طور پر ساجد حسین ولد عاشق حسین، یا ساجد حسین ولد ( والدہ کا نام) براہ کرم میری اور میرے بہت سے دوستوں کی راہ نمائی فرمائیں۔
مشہور روایت تو یہی ہےکہ قیامت کے دن نسبت باپ کی طرف ہوگی،مگر اس سلسلہ میں دوسری روایت بھی ملتی ہیں،کہ جس میں یہ مذکور ہے کہ قیامت کے دن انسان کو ماں کی طرف منسوب کر کے پکارا جائیگا، اگر یہ دوسری روایت صحیح سند سے ثابت ہو جائے تو پھر آباء والی روایت تغلیب پر محمول ہوگی۔
کما في مشكاة المصابيح: أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم» رواه أحمد وأبو داود اھ (3/ 1347)
و في بذل المجهود في حل سنن أبي داود: نقل في الحاشية عن "اللمعات" (2): قد جاء في بعض الروايات أنه يدعى الناس يوم القيامة بأسماء أمهاتهم، فقيل: الحكمة فيه ستر حال أولاد الزنا لئلا يفتضحوا، وقيل: ذلك لرعاية حال عيسى ابن مريم، وقيل: غير ذلك، فإن ثبت هذه الرواية حمل الآباء على التغليب كما في الأبوين، أو يحمل أنهم يدعون تارة بالآباء، وأخرى بالأمهات، أو البعض بالآباء، والبعض بالأمهات، أو في بعض المواطن بهم، و في بعضها بهن، انتهى. (13/ 349)۔