السلام علیکم!
ایک انسان کو طلاق کے بارے میں وسوسے آتے ہیں تنگ آکر وہ تنہائی میں خدا کو مخاطب کرکے کہتا ہے " اللہ آپ گواہ رہیں یا اللہ آپ تو جانتے ہیں میں نے طلاق دی ہے ناہی دے رہاہوں اور ناہی دونگا یا یہی الفاظ پشتو میں کہے ( نا میں نے طلاق دی ہے ) نا مے طلاق ورکڑے ( ناہی دے رہا ہوں )نا ورکوم ( نا آئندہ دو نگا)خدا سے کی ہوئی اس گفتگو کے بعد اس انسان کو خیال آیا کہ جیسے "نا" کے الفاظ بولے تو ہیں لیکن اسکی آواز نہیں آئی اور کہیں جملہ آواز کے ساتھ ایسے نا بن گیا ہو کہ " میں نے طلاق دی ہے، نا دے رہا ہوں نا ہی دونگا" یا پشتو میں’’ مےطلاق ورکڑے دے، نا ورکوما او نا با ورکم‘‘ اس انسان کو یقین ہے کہ اس نے نا ساتھ بولا تھا شروع میں بس یہ سمجھ نہیں تھی کہ نا کی آواز سنائی دی یا کہ منہ کے اندر ہی اندر رہ گئی , کیا حکم ہے اس انسان کے لئےایسی صورت میں ؟
واضح ہوکہ محض دل میں طلاق کا خیال آنے یاطلاق کے وسوسے آنے سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ،بلکہ جب زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کیے جائیں ،یا پھرلکھ کردی جائے تب اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے چنانچہ صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کے سوال میں درج الفاظ سے اسکی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، لہذا بلا وجہ شکوک و شبہات میں پڑنے سےاجتناب کیا جائے۔
كما في الصحيح البخاري : حدثنا مسلم بن إبراهيم: حدثنا هشام: حدثنا قتادة، عن زرارة بن أوفي، عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تتكلم» قال قتادة: إذا طلق في نفسه فليس بشيء اھ (7/ 46ط:سلطانیہ)
وفي الرد: (قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس اھ(4/ 224)
وفي ايضًا: لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، و حققه في النهر (250/3ط:الحلبی)