طلاق

طلاق کے وسوسوں کا حکم

فتوی نمبر :
49662
| تاریخ :
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق کے وسوسوں کا حکم

السلام علیکم!
ایک انسان کو طلاق کے بارے میں وسوسے آتے ہیں تنگ آکر وہ تنہائی میں خدا کو مخاطب کرکے کہتا ہے " اللہ آپ گواہ رہیں یا اللہ آپ تو جانتے ہیں میں نے طلاق دی ہے ناہی دے رہاہوں اور ناہی دونگا یا یہی الفاظ پشتو میں کہے ( نا میں نے طلاق دی ہے ) نا مے طلاق ورکڑے ( ناہی دے رہا ہوں )نا ورکوم ( نا آئندہ دو نگا)خدا سے کی ہوئی اس گفتگو کے بعد اس انسان کو خیال آیا کہ جیسے "نا" کے الفاظ بولے تو ہیں لیکن اسکی آواز نہیں آئی اور کہیں جملہ آواز کے ساتھ ایسے نا بن گیا ہو کہ " میں نے طلاق دی ہے، نا دے رہا ہوں نا ہی دونگا" یا پشتو میں’’ مےطلاق ورکڑے دے، نا ورکوما او نا با ورکم‘‘ اس انسان کو یقین ہے کہ اس نے نا ساتھ بولا تھا شروع میں بس یہ سمجھ نہیں تھی کہ نا کی آواز سنائی دی یا کہ منہ کے اندر ہی اندر رہ گئی , کیا حکم ہے اس انسان کے لئےایسی صورت میں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ محض دل میں طلاق کا خیال آنے یاطلاق کے وسوسے آنے سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ،بلکہ جب زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کیے جائیں ،یا پھرلکھ کردی جائے تب اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے چنانچہ صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کے سوال میں درج الفاظ سے اسکی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، لہذا بلا وجہ شکوک و شبہات میں پڑنے سےاجتناب کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الصحيح البخاري : حدثنا ‌مسلم بن إبراهيم: حدثنا ‌هشام: حدثنا ‌قتادة، عن ‌زرارة بن أوفي، عن ‌أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌إن ‌الله ‌تجاوز ‌عن ‌أمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تتكلم» قال قتادة: إذا طلق في نفسه فليس بشيء اھ (7/ 46ط:سلطانیہ)
وفي الرد: (قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ‌ولكن ‌موسوس ‌له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس اھ(4/ 224)
وفي ايضًا: لما مر أن الصريح ‌لا ‌يحتاج ‌إلى ‌النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، و حققه في النهر (250/3ط:الحلبی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49662کی تصدیق کریں
0     827
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات