میر انکاح پانچ مہینے پہلے ہوا ہے ، اور ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے ، میں اپنی بیوی سے میسج میں بات کرتا ہوں ، ہماری ایسے ایک بات چل رہی تھی ، اسلامی نقطہ نظر کے بارے میں تو میں نے مذاقاً یہ سوال کر دیا کہ تو قرآن کی آیت کا انکار تو نہیں کر رہی ہو ، ورنہ نکاح خود بخود ختم ہو جائیگا، تواس پر میری بیوی نے مذاقاً بول دیا , ہاں ہو گیا ختم , جائیں ، لیکن اس کی نیت قرآن کا انکار کرنا نہیں تھا، اس نے مذاقاً کہہ دیا میری بات پر , کہ ہو گیا ختم , جائیں، کیا ہمارا نکاح ختم ہو گیا ؟ اس بات کی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ۔
سائل کی بیوی نے اگر قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صریح حکم کا انکار نہ کیا ہو، تو اس سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئی ، بلکہ دونوں کا نکاح حسب سابق بر قرار ہے، تاہم آئندہ کیلئے اس قسم کی گفتگو سے احتراز کریں اور ساتھ ساتھ توبہ و استغفار بھی کریں۔
ففى الفتاوى الهندية : إذا أنكر الرجل آية من القرآن، أو تسخر بآية من القرآن وفي الخزانة، أو عاب كفر (266/2)
وفيها ايضاً: (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. اهـ ( 374/1) -