السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بركاتہ محترم مفتی صاحب!
”أللّٰهُمَّ صلی على محمد وآل محمد“ کیا یہ صیغہ کسی حدیث سے ثابت ہے، اور اگر نہیں ہے تو کیا اسے پڑھنے میں کوئی ممانعت ہے , درود کے احکامات کے مطابق ؟ جزاک اللہ خیراً
سوال میں ذکر کردہ درود شریف”أللّٰهُمَّ صل على محمد وآل محمد“کو لفظ”علیٰ“کے بغیر پڑھنے کی اگر چہ ممانعت نہ ہو گی، لیکن نبی کریم ﷺ سے لفظ ”علیٰ“کیسا تھ منقول ہے، اس لئے مذکور درود شریف کو مکمل الفاظ کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئیے ۔
کما في صحيح البخاري: حدثنا الحكم قال: سمعت عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: لقيني كعب بن عجرة فقال: ألا أهدي لك هدية؟ إن النبي ﷺ خرج علينا، فقلنا: يا رسول الله، قد علمنا كيف نسلم عليك، فكيف نصلي عليك؟ قال: "قولوا: أللّٰهُمَّ صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد. أللّٰهُمَّ بارك على محمد، وعلى آل محمد، كما باركت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد" اھ (2/49)-