نظر بد

عملیات کے ذریعہ قتل کا حکم

فتوی نمبر :
58792
| تاریخ :
2010-03-24
عقوبات / حدود و سزا / نظر بد

عملیات کے ذریعہ قتل کا حکم

کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگوں کی جب کسی کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے تو چند آدمی جمع ہو کر ایسا کرتےہیں، کہ ایک پتھر پر جس شخص کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے اس کا نام لکھتے ہیں اور پھر کچھ مخصوص آیاتِ غضب و وظائف پڑھ کر کنکریوں کے ذریعہ اس پتھر پر مارتے ہیں جس پر اس شخص کا نام لکھا ہوا ہوتا ہے ایسا تقریباً ہر آدمی چار یا پانچ سو مرتبہ کرتا ہے، اب اس کے بعد وہ شخص جس کے لیے یہ عمل کیا جاتا ہے وہ کچھ دنوں کے بعد کسی حادثہ میں انتقال کر جاتا ہے ، لیکن مقتول کے گھر والوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کس وجہ سے فوت ہوا ہے، وہ اس کو حادثہ وغیرہ سمجھتے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ لوگ شرعاً قاتل ٹھہریں گے؟ اگرچہ دنیوی سزا نہ ہو، لیکن کیا اُخروی سزا ہوگی؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ شہادتِ شرعیہ یا خود مجرم کا اقرارِقتل بہ آلۂ قتل نہ ہونے کی وجہ سے ایسے لوگوں پر شرعاً قصاص یا دیت وغیرہ تو لازم نہیں، مگر یہ اپنی مذکور ناجائز حرکت کی وجہ سے گناہ گار ضرور ہیں۔ پھر اگر کسی شخص کا انتقال واقعۃً ان کے وظائف کی وجہ سے ہوجائے تو ایسے لوگوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے اور یہ لوگ عند اللہ مجرم ہونے کی بناء پرمؤاخذہ اخروی سے نجات بھی نہ پا سکیں گے، اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس ناجائز طرزِ عمل پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں، اور جن لوگوں کو اس طریقے سے نقصان پہنچایا ہے، ان سے معذرت بھی کریں اور یہ کہ آئندہ کےلیے اس عمل سے مکمل طور پر احتراز کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى﴾ (طه: 69)-
و فی التفسير المظهري:واعلم انه من قتل إنسانا لا يحل قتله او اضره بسلب نعمة البدنية او المالية او غير ذلك بالسيفى والدعاء وان كان ذلك بأسماء الله تعالى الجلالية وان لم يكن ذلك كفرا فهو فاسق البتة وحكمه حكم قطاع الطريق اھ(1/ 106)-
وفی صحيح البخاري: عن أبي هريرة - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «اجتنبوا السبع الموبقات»، قالوا: يا رسول الله وما هن؟ قال: «الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق الخ (4/ 10)-
و فی صحيح البخاري: عن أبي هريرة - رضي الله عنه - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "اجتنبوا الموبقات: الشرك بالله، والسحر"(7/ 137)
و فی حاشية ابن عابدين: ساحر يسحر ويدعي الخلق من نفسه يكفر ويقتل لردته. وساحر يسحر وهو جاحد لا يستتاب منه ويقتل إذا ثبت سحره دفعا للضرر عن الناس.(إلی قوله)أي لا يمهل طلبا للتوبة لأنها لا تقبل منه في دفع القتل عنه بعد أخذه كما يأتي دفعا للضرر عن الناس كقطاع الطريق والخناق وإن كانوا مسلمين. (4/ 240،۲۴۱) واللہ أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58792کی تصدیق کریں
0     1304
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نظر اتارنے کا ایک مجرب و مستند وظیفہ

    یونیکوڈ   اسکین   نظر بد 6
  • نظر اُتارنے کا صحیح طریقہ

    یونیکوڈ   نظر بد 1
  • جھگڑے میں گولی چلانے والے کا معلوم نہیں تو قصاص کس پر؟

    یونیکوڈ   نظر بد 0
  • غیر جاندار چیز کو نظرِ بد لگنا اور اس کے دور کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   نظر بد 0
  • عملیات کے ذریعہ قتل کا حکم

    یونیکوڈ   نظر بد 0
  • لال مرچوں پر دم کرکے نظرِ بد اتارنا

    یونیکوڈ   نظر بد 1
  • گھر یا مکان کو نظرِ بد سے بچانے کیلئےسینگ، ہڈی اور تعویذ لٹکانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   نظر بد 0
  • نظر بد کو دور کرنے کے وظائف

    یونیکوڈ   نظر بد 0
  • نظر بد سے بچنے کے لئے وظیفہ

    یونیکوڈ   نظر بد 0
  • ماں کی نظر بچہ کو لگ سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   نظر بد 0
Related Topics متعلقه موضوعات