امامت و جماعت

تکبیرِ اولی کی تعریف و موقع

فتوی نمبر :
59063
| تاریخ :
2006-04-18
عبادات / نماز / امامت و جماعت

تکبیرِ اولی کی تعریف و موقع

۱۔ امامت کے ساتھ نماز پڑھتے وقت کس حالت تک امام کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے؟ یعنی کب تک تکبیر اولیٰ میں شریک کہلائےگا؟
۲۔ فجر کی نماز میں اگر جماعت کھڑی ہو تو پہلے سنت پڑھنی چاہیے یا جماعت میں شامل ہونا لازمی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۲،۱ ۔ اصل اور احوط یہ ہے کہ جب امام تکبیرِ اولیٰ کہے اسی وقت مقتدی بھی جماعت میں شریک ہو جائے، لیکن اگر کوئی رکوع سے پہلے پہلے امام کے ساتھ شریک ہو گیا تو بھی تکبیر اولیٰ پانے والا ہی کہلائےگا، جبکہ اگر جماعت جانے کا اندیشہ نہ ہو تو سنت پڑھ کر جماعت کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الفتاوى الهندية: أما فضيلة تكبيرة الافتتاح فتكلموا في وقت إدراكها والصحيح أن من أدرك الركعة الأولى فقد أدرك فضيلة تكبيرة الافتتاح. (1/ 69)۔
وفی حاشية ابن عابدين: إنه لو رجا إدراك التشهد لا يأتي بسنة الفجر على قول محمد. والحق خلافه لنص محمد على ما يناقضه اهـ أي لأن المدار هنا على إدراك فضل الجماعة، وقد اتفقوا على إدراكه بإدراك التشهد، فيأتي بالسنة اتفاقا اھ(2/ 56)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59063کی تصدیق کریں
0     1256
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات