۱۔ امامت کے ساتھ نماز پڑھتے وقت کس حالت تک امام کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے؟ یعنی کب تک تکبیر اولیٰ میں شریک کہلائےگا؟
۲۔ فجر کی نماز میں اگر جماعت کھڑی ہو تو پہلے سنت پڑھنی چاہیے یا جماعت میں شامل ہونا لازمی ہے؟
۲،۱ ۔ اصل اور احوط یہ ہے کہ جب امام تکبیرِ اولیٰ کہے اسی وقت مقتدی بھی جماعت میں شریک ہو جائے، لیکن اگر کوئی رکوع سے پہلے پہلے امام کے ساتھ شریک ہو گیا تو بھی تکبیر اولیٰ پانے والا ہی کہلائےگا، جبکہ اگر جماعت جانے کا اندیشہ نہ ہو تو سنت پڑھ کر جماعت کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔
وفی الفتاوى الهندية: أما فضيلة تكبيرة الافتتاح فتكلموا في وقت إدراكها والصحيح أن من أدرك الركعة الأولى فقد أدرك فضيلة تكبيرة الافتتاح. (1/ 69)۔
وفی حاشية ابن عابدين: إنه لو رجا إدراك التشهد لا يأتي بسنة الفجر على قول محمد. والحق خلافه لنص محمد على ما يناقضه اهـ أي لأن المدار هنا على إدراك فضل الجماعة، وقد اتفقوا على إدراكه بإدراك التشهد، فيأتي بالسنة اتفاقا اھ(2/ 56)۔