کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیانِ کرام مسئلہ ھذا کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں درمیان صف ایک ستون ہے، اگر اس ستون کے آگے گھڑے ہو کر آدمی نماز پڑھے تو یہ نمازی اور نمازیوں سے آگے بڑھا ہوا ہوتاہے، یعنی صف سے متجاوز ہوتا ہے تو اس کی نماز میں کراہت آئےگی یا نہیں؟
ایسی صورت میں بھی اگرچہ نماز درست ادا ہو جائے گی، تاہم ایسا کرنے کی ضرورت نہیں، ستون کا بیچ میں آنے سے کسی قسم کی کراہت لازم نہیں آتی۔
فی صحيح البخاري: سالم بن أبي الجعد، قال: سمعت النعمان بن بشير، يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لتسون صفوفكم، أو ليخالفن الله بين وجوهكم» اھ(1/ 145)۔
وفی فتح الباري لابن حجر: قوله أو ليخالفن الله بين وجوهكم أي إن لم تسووا والمراد بتسوية الصفوف اعتدال القائمين بها على سمت واحد اھ(2/ 207)۔
وفی المبسوط للسرخسی: والاصطفاف بين الأسطوانتين غير مكروه لأنه صف في حق كل فريق وإن لم يكن طويلا وتخلل الأسطوانة بين الصف كتخلل متاع موضوع أو كفرجة بين رجلين وذلك لا يمنع صحة الاقتداء ولا يوجب الكراهة اھ(2/ 35)۔