کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تصوف کی حقیقت کیا ہے؟ جبکہ بعض لوگ مجمع بنا کرا یک جگہ اکھٹے ہوتے ہیں اور جہراً ذکر کرتے ہیں اور ان میں ایک ان کا مرشد ہوتا ہے اور ذکر کرتے کرتے جوش میں آکر یہ الفاظ ادا کرتے ہیں کہ " اے فلاں بزرگ تو پہنچ جا" اوراسی جوش کے عالم میں اپنی قمیص بھی اتار دیتے ہیں ، براہِ کرم آپ بتائیں کہ آیا ایسا کرنا درست ہے ؟ اور شریعتِ مطہرہ میں اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟ جواب دیکر ممنون فرمائیں ۔
واضح ہو کہ تصوف "علم القلب" کا نام ہے جو علومِ شرعیہ میں داخل ہے اور اس کی اتنی مقدار سیکھنا لازم ہے جس کے ذریعے سے اپنے رذائلِ باطنیہ کا ازالہ اور اخلاق و ملکاتِ نفسانیہ کے استعمالِ محرم سے اجتناب ہو سکے ،
اب اگر کسی متبعِ شریعت شیخ نے توجہِ قلب الی اللہ کے لۓ ذکر کا کوئی مخصوص طریقہ بتلایا ہو تو اگر چہ اصلا حِ نفس اور توجہِ قلب کیلۓ اسے اپنانے کی اجازت ہے، مگر اس دوران مذکور خط کشیدہ جملے کا استعمال اگر عقیدۃً ہو اور کسی غائب کو حاضر جان کر بلایا جا رہا ہو اوراس سے استمداد و استعانت مقصود ہو تو یہ شرک کو متضمن ہونے کیوجہ سے جائز نہیں ۔
جبکہ اسی دوران قمیص اتار دینا غیرمہذب حرکت ہے جو اخلاقاً اورخاص کر تصوف کی لائن میں بھی ممنوع ہے، اس لۓ اُن پر لازم ہے کہ وہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے احتراز کے ساتھ کسی نیکو کار متقی و پرہیزگار اور متبعِ شریعت شیخ سے اپنا تعلق قائم کریں ۔
فی روح المعانی : ( ومن أضل ممن يدعوا من دون الله من لا يستجيب له) إنكار لأن يكون أضل من المشركين و ذكر بعض الفضلاء أن المراد نفي أن يكون أحد يساويهم في الضلالة و إن كان سبق التركيب لنفي الأضل و قد مر ما يتعلق بذلك فتذكر أي هو اضل من كل ضال حيث ترك دعاء المجيب القادر المستجمع لجميع صفات الكمال كما يشعر بذلك الأسم الجليل و دعا من ليس شأنه الأستجابة له و إسعافه بمطلوبه اھ(ج14 ص6)۔
و فی التفسیر المظھری : و من أضل عطف علی مقولة القول یعنی لا أحد أضل ممن یدعو ای یعبد و یطلب حاجته من دون اللہ من لا یستجیب له إذا دعاہ لو سمع دعاھم فرضا ان یعلم سرائرھم و یراعی مصالحھم اھ(8/39)۔
و فی الدر المختار : و في تبيين المحارم : لا شك في فرضية علم الفرائض الخمس و علم الإخلاص ؛ لأن صحة العمل موقوفة عليه و علم الحلال و الحرام و علم الرياء ؛ لأن العابد محروم من ثواب عمله بالرياء ، و علم الحسد و العجب إذ هما يأكلان العمل كما تأكل النار الحطب اھ(ج1ص42)۔
و فیه ایضا : لما علمت من أن علم الإخلاص و العجب و الحسد و الرياء فرض عين ، و مثلها غيرها من آفات النفوس : كالكبر و الشح و الحقد و الغش و الغضب و العداوة و البغضاء و الطمع و البخل و البطر و الخيلاء و الخيانة الخ (1/43)۔
و فی مقدمة رد المختار : و الولي فعيل بمعنى الفاعل، و هو من توالت طاعته من غير أن يتخللها عصيان ، و بمعنى المفعول ، فهو من يتوالى عليه إحسان الله تعالى و إفضاله ،تعريفات السيد و لا بد من تحقق الوصفين حتى يكون وليا في نفس الأمر ، فيشترط فيه كونه محفوظا كما يشترط في النبي كونه معصوما كما في رسالة الإمام القشيري.(1/58)۔