کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز کے ساتھ افضل الذکر و درود پڑھنا (حاضر کے صیغہ کیساتھ) کیسا ہے اور نمازِ جمعہ کے بعد جو سلام پڑھتے ہیں، اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
مذکورہ طریقہ سے ذکر و درود اور نمازِ جمعہ کے بعد بآوازِ بلند سلام پڑھنے کا قرونِ ثلا ثہ" مشہود لہا بالخیر "سے کوئی ثبوت نہیں ، نیز اس طرزِ عمل سے دیگر عبادات میں مشغول افراد کی عبادت میں خلل اور مریضوں کو اس سے ایذاء بھی ہوتی ہے، جبکہ بعض مقامات پر اُن کا ساتھ نہ دینے والوں کو بہ نظرِ حقارت دیکھا جاتا ہے اور اسی مخصوص طرزِ عمل کو باعثِ اجر و ثواب سمجھا جاتا ہے، اس لۓ یہ بلا شبہ بدعت ہے ، جس میں شرکت سے احتراز لازم ہے۔
فی البزازية : قد صح عن ابن مسعود -رضی اللہ عنه- انه سمع قوماً اجتمعوا فی مسجدٍ یھللون و یصلون -علیه الصلوة و السلام- جھراً فراح الیھم فقال ما عھدنا ذلك علی عھدہ -علیه الصلوة و السلام- و مااراکم الا مبتدعین فمازال یذکر ذلک حتی اخرجھم عن المسجد اھ(بزازية علی ھامش الہندیۃ 6/378)۔
و فی تکملة فتح الملھم : و دل الحدیث علی استحباب الاسرار و المخافتة بالذکر و الدعاء و ھو موافق لقوله تعالی "ادعوا ربکم تضرعا و خفية " و من ھنا ذکر العلماء ان الذکر الخفی افضل من الذکر بالجھر و ان کان الجھر جائزاً بشرط ان لایکون فیه ریاء و بشرط ان لایکون فیه ایذاء لأحد اھ
فی الدر المختار : و سجدة الشكر : مستحبة به يفتى لكنها تكره بعد الصلاة لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة و كل مباح يؤدي إليه فمكروه اھ(2/ 119)۔
و فی الشامية : (قوله فمكروه) الظاهر أنها تحريمية لأنه يدخل في الدين ما ليس منه اھ(2/ 120)۔