کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ تسبیحات مثلاً’’اللہ أکبر ، سبحان اللہ‘‘ وغیرہ کو شمار کر کے پڑھنے کی کیا حکمت ہے؟ میری یہ رائے ہے کہ اللہ کے ذکر کو بغیر شمار کرکے پڑھنا چاہیے۔
جن اذکار میں شریعتِ مطہرہ نے کسی خاص عدد کی تعیین نہیں فرمائی ، ان میں بلاوجہ اپنی طرف سے تعیین کرنا قطعاً درست نہیں ، البتہ جن اذکار کے لیے شریعت نے مخصوص اعداد متعین کیے ہیں ان اعداد کی پابندی بھی مشروع ہوتی ہے اور اس پر دنیوی و اخروی فوائد بھی مرتب ہوتے ہیں ، اگر چہ ہمارے فہمِ ناقص اس کے سمجھنے سے قاصر ہوں ، لہٰذا بلاوجہ اور بلا دلیل ایسے دعاوِی کرنے اور امت میں اختلاف و انتشار پھیلانے سے احتراز چاہیے۔
ففی السعایة : و من الفوائد التی علیه العلماءِ أن مراعاة العدد المخصوص فی الأذکار معتبرة لأن الأعداد المخصوصة إذا رتب علیھا ثواب من صاحب الشرع إذا علیھا لا یحصل له ذلک الثواب لإحتمال أن یکون لتلک الأعداد خصوصیة لانعلمھا اھ(۲/ ۲۵۹)۔