کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ علماء نے لکھا ہے کہ الہام، ادلۂ شرعیہ میں سے نہیں ہے ،اس سے احکام ثابت نہیں ہوتے، جبکہ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ الہام ظنیات میں سے ہے تو سوال یہ ہے کہ ادھر ظنیات سے کیا مراد ہے؟ اگر دلیلِ ظنی مراد ہے تو دلیلِ ظنی سے تو احکام ثابت ہوتے ہیں اور اگر دلیلِ ظنی مراد نہیں تو پھر ادھر الہام کے ظنیات میں سے ہونے سے کیا مراد ہے؟ دلائل سے وضاحت فرمائیں۔
۲۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ولی کو کشف کے ذریعے معلوم ہو جائے کہ میں جنتی ہوں یا کسی اور کے بارے میں کہ فلان جنتی ہے اگر ہو سکتا ہے تو دلیل سے وضاحت کریں۔
۳۔ دعا میں ایسے الفاظ استعمال کرنا کہ ’’یا اللہ مجھے اپنا جنتی ساتھی دنیا میں دکھا دے‘‘، جائز ہے یا نہیں؟ دلائل فرما کر ممنون فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی بھی حکمِ شرعی کو ثابت کرنے کے لیے ، ادلۂ اربعہ ( قرآن، سنت، اجماع اور قیاس) میں سے کسی ایک دلیل کا پایا جانا ضروری ہے اور الہام ادلۂ اربعہ میں سے کسی ایک کے تحت بھی داخل نہ ہونے کی وجہ سے اثباتِ احکام کے لیے کافی نہیں اور اس کا ظنی ہونا باعتبارِ صدق اور یقین کے ہے نہ کہ دلیل ہونے کے اعتبار سے ، لہٰذا دونوں قولوں میں کوئی تعارض نہیں۔
جبکہ کسی ولی کو اللہ رب العزت کی طرف سے کشف کے ذریعہ اپنایا کسی اور کے جنتی ہونے کا معلوم ہو جانا ناممکن اور محال نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اس پر منکشف فرما دیں، تا ہم اپنے جنتی ساتھی کو دنیا میں دیکھنے کی دعا کرنا کشف و الہام کے مترادف ہونے کی وجہ سے پسندیدہ نہیں، بلکہ اللہ رب العزت سے جنت میں ایک ساتھ جمع ہو جانے کی دعا کرنی چاہیے۔
ففی شرح العقائد: و الھام المفسر بالقاء معنی فی القلب بطریق الفیض لیس من اسباب المعروفة بصحة الشی عند اھل الحق اھ و فی ھامشه فالالھام لیس بحجة عند الجمہور إلا عند المتصوفة اھ (ص: ۲۳)۔
و فی الفقه الأكبر: و الكرامات للأولياء حق الخ (ص: 51)۔
و فی شرح الطحاوية: فَالْخَارِقُ ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ: مَحْمُودٌ فِي الدِّينِ، وَ مَذْمُومٌ، وَ مُبَاحٌ, فَإِنْ كَانَ الْمُبَاحُ فِيهِ مَنْفَعَةٌ كَانَ نِعْمَةً، وَ إِلَّا فَهُوَ كَسَائِرِ الْمُبَاحَاتِ الَّتِي لَا مَنْفَعَةَ فِيهَا. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْجُوزَجَانِيُّ: كُنْ طَالِبًا لِلِاسْتِقَامَةِ، لَا طَالِبًا لِلْكَرَامَةِ، فَإِنَّ نَفْسَكَ مُتَحَرِّكَةٌ فِي طَلَبِ الْكَرَامَةِ، وَ رَبُّكَ يَطْلُبُ مِنْكَ الِاسْتِقَامَةَ.(ص: 495)۔