کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ایک عزیز کا ایران جانا ہوا ، ایران میں اُن دنوں بہت لائٹنگ کی ہوئی تھی اور جشن کا سماں تھا تو ہمارے عزیز نے اُن سے پوچھا کہ یہ جشن کس چیز کا مناتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا کہ یہ جشن امام مہدی علیہ السلام کی آمد کا جشن ہے اُن لوگوں کے خیال میں امام مہدی ۱۵ شعبان کو آئیں گے ، اب ہمارے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ امام مہدی بھی شیعوں کے امام ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ امام مہدی کا قرآن اور احادیث میں کہیں کوئی تذکرہ نہیں ، ہمارے سنی مسلمان امام مہدی کی باتیں اہلِ تشیع کی وجہ سے کرتے ہیں ، کیا امام مہدی کا قرآن و حدیث میں کہیں تذکرہ ہے اگر ہے تو وہ حدیث بتا کر ہمیں مطمئن کیجیے؟
سائل کے دوست کی مذکور سوچ قطعاً غلط اور خلافِ شریعت ہے، کیونکہ قُربِ قیامت ، ظہورِ ’’مہدی‘‘ کی پیشن گوئی احادیثِ صحیحہ صریحہ سے ثابت ہے ، ذیل میں ایسی چند احادیثِ مبارکہ بھی درج کی جا رہی ہیں اس لیے سائل کے دوست پر لازم ہے کہ اپنی مذکور سوچ سے مکمل احتراز کرے اور حق بات کو جاننے کے بعد اس کے مطابق عمل بھی کرے۔
۱۔ففی مشکوۃ المصابیح: عن أم سلمۃ قالت: سمعت رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - یقول: ’’المہدی من عترتی من أولاد فاطمۃ‘‘ . رواه أبو داود (3/ 1501)۔
اُم سلمۃ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’مہدی‘‘ میری نسل، یعنی حضرت فاطمۃ کی اولاد میں سے ہوں گے۔
2 ۔ و فی مشکوۃ المصابیح: عن أبی سعید الخدری قال: قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم -: «المہدی منی أجلی الجبہۃ و أقنی الأنف یملأ الأرض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما و جورا یملک سبع سنین» . رواه أبو داود (3/ 1501)۔
حضرت ابو سعید خدریؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ مہدی میری نسل سے ہوں گے اور ان کی پیشانی کشادہ ہوگی اور ناک ابھری ہوئی ہوگی اور زمین کو عدل اور انصاف سے ایسے بھر دیں گے، جیسے وہ پہلے ظلم اور ناانصافی سے بھری ہوگی اور وہ سات سال بادشاہت کریں گے۔
۳۔ و فی مشکوۃ المصابیح: عن عبد اللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم -: «لا تذھب الدنیا حتی یملک العرب رجل من أھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی» رواہ الترمذی و أبو داود. وفی روایۃ لہ: «لو لم یبق من الدنیا إلا یوم لطول اللہ ذلک الیوم حتی یبعث اللہ فیہ رجلا منی - أو من أھل بیتی - یواطیء اسمہ اسمی و اسم أبیہ اسم أبی یملأ الأرض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما و جورا۔(3/ 1501)۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میری نسل سے یا فرمایا کہ میرے اہلِ بیت سے ایک ایسے آدمی کو اٹھائیں گے جس کا نام میرے نام کے مشابہ ہوگا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مشابہ ہوگا۔