کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص پردے کا انکار کر دے کہ کوئی پردہ وغیرہ نہیں ہے، یہ سب مولویوں کا اپنی طرف سے گڑھا ہوا ہے،جبکہ قرآنِ کریم میں پردے کےمتعلق آیات موجود ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے کنایۃً آیتوں کا انکار کر دیا، تاہم ایسا شخص کافر ہوگا یا نہیں؟
پردہ کے متعلق اس قسم کے الفاظ ادا کرنا دین سے دُوری اور جہالت پر مبنی اور انتہائی خطرناک ہے، اس لیے شخصِ مذکور پر اپنے اس گناہ کی وجہ سے بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کسی حکمِ شرعی سے متعلق اس قسم کے الفاظ کہنے سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى﴾ (الأحزاب: 33)۔
و فی مشكاة المصابيح: و عنه(عن إبن مسعود) عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان» . رواه الترمذي(2/ 933)۔
و فی سنن أبي داود: عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها، و صلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها»(1/ 156)۔
و فی الفتاوى الهندية: من اعتقد الحرام حلالا، أو على القلب يكفر أما لو قال لحرام: هذا حلال لترويج السلعة، أو بحكم الجهل لا يكون كفرا، و في الاعتقاد هذا إذا كان حراما لعينه، و هو يعتقده حلالا حتى يكون كفرا أما إذا كان حراما لغيره، فلا و فيما إذا كان حراما لعينه إنما يكفر إذا كانت الحرمة ثابتة بدليل مقطوع به أما إذا كانت بأخبار الآحاد، فلا يكفر كذا في الخلاصة. (2/ 272)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1