کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چند ساتھی ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے دینی مسائل پر بات چل نکلی، جیسا کہ عوام کی عادت ہے کہ ان کی مجالس میں اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس مجلس میں ایک مولانا صاحب بھی موجود تھے، انہوں نے ایک مسئلہ بیان کیا کہ ’’جو شخص فرض کا انکار کرے وہ کافر ہو جاتا ہے اور واجب کے انکار سے آدمی کافر نہیں ہوتا‘‘، مجھے ان کے اس بات میں شبہ ہے، کیا واقعۃً واجب کے انکار سے آدمی کافر نہیں ہوتا؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
جی ہاں! واجب کے انکار سے کفر لازم نہیں آتا، مگر موجبِ فسق ضرور ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: لما في التلويح من أن الواجب لا يلزم اعتقاد حقيقته لثبوته بدليل ظني، و مبنى الاعتقاد على اليقين، لكن يلزم العمل بموجبه للدلائل الدالة على وجوب اتباع الظن، فجاحده لا يكفر، و تارك العمل به إن كان مؤولا لا يفسق ولا يضلل؛ لأن التأويل في مظانه من سيرة السلف، و إلا فإن كان مستخفا يضلل؛ لأنه رد خبر الواحد(1/ 95)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1