کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ بات روزِ روشن کی طرح بالکل واضح ہے کہ داڑھی رکھنا واجب امر ہے اس کا مونڈوانا حرام ہے اور داڑھی شعائرِ اسلام میں سے بھی ہے تو اگر کوئی شخص داڑھی کو فرینچ کٹ یا زگ زیگ کی صورت میں رکھتا ہے تو اس کے بارےمیں شریعت کیا کہتی ہے؟ کیا مذکور شخص کا ایمان باقی ہے؟ کیا اس کا داڑھی کے ساتھ مذکور طریقہ اختیار کرنا سنتِ نبویؐ اور اسلامی شعائر سے استہزاء نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور طرز کی داڑھی رکھنا قطعاً ناجائز اور حرام ہے اور اگر اس سے داڑھی کا استہزاء مقصود ہو تو یہ موجبِ کفر بھی بن سکتا ہے، لہٰذا مذکور طرزِعمل سے احتراز لازم ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : "خالفوا المشركين: أوفروا اللحى و أحفوا الشوارب". و في رواية: «أنهكوا الشوارب و أعفوا اللحى» (2/ 1261)۔
و فی البحر الرائق: فيكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به أو سخر باسم من أسمائه أو بأمر من أوامره او أنكر وعده أو وعيده (الی قوله) و بقوله أنا لا أحبه حين قيل له إن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يحب القرع و قيل إن كان على وجه الإهانة و بقولها نعم حين قال لها لو شهد عندك الأنبياء و الملائكة لا تصدقيهم حين قالت له لا تكذب وباستخفافه بسنة من السنن اھ (5/131)۔
و فی حاشية ابن عابدين: أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا و هينا من غير استهزاء و لا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لا يكون كفرا عند الكل تأمل. (1/ 81)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1