السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
12/5/2010کو ایک معروف چینل کے پروگرام میں ایک خاتون اینکر نے 12 مئی کے ایشوز پر گفتگو کرتے ہوئے یہ الفاظ اپنے منہ سے ادا کیے ہیں (نعوذباللہ) ’’اللہ تو بے چارہ کیا کرے‘‘۔ اس کا وڈیو پروف یوٹیوب پر اَپ لوڈ ہے۔
اس حوالے سے چینل کے مالکان اور اس اینکرز اور پروگرام میں بیٹھے ہوئے افراد کے بارے میں کیا حکم ہے؟ شریعت کی روشنی میں فتویٰ کی شکل میں جواب اگر جلد از جلد مل جائے تو اس گستاخی کے حوالے سے معاشرے میں اہم کردار ادا کیا جاسکے گا، آپ کے جواب کا منتظر!
لفظ بے چارہ چونکہ ہمارے عرف میں عاجز اور بے بسی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے مذکور اینکر نے بھی اگر اسی معنیٰ میں استعمال کیا ہو تو چونکہ مذکور کلمات، کفریہ کلمات میں سے ہیں، اس لیے اس خاتون پر لازم ہے کہ وہ اپنی اس کفریہ حرکت پر علی الاعلان توبہ و استغفار اور تجدید ایمان کرلے اور اگر شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے، جبکہ متعلقہ چینل والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو کسی پروگرام میں دعوت دینے سے احتراز کریں، تاہم جن لوگوں نے اس کی اس کفریہ بات پر خوشگواری کا اظہار کرتے ہوئے اس کو داد دی ہو تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں، ان سب پر بھی توبہ و استغفار اورتجدیدِ ایمان لازم ہے۔
في الفتاوی الهندية: یکفرٳذا وصف اللہ تعالی بما لایلیق به (ٳلی قوله)ٲو نسبه ٳلی الجهل ٲو العجز اھ (۲/۲۵۸)۔
وفي الفتاوی التتارخانية: وفي خزانة الفتاوی، ولو قال: للہ شریكٲو ولد (ٳلی قوله) ٲو عاجز، ٲو نقص بذاته ٲو صفاته کفر اھ (۵/۴۶۳) واللہ اعلم بالصواب!
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1