۱۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ’’سفیان‘‘ نام رکھنا صحیح ہے یا نہیں؟
۲۔ اگر لڑکی ہوئی تو میری بیوی اس کا نام ’’ایمان فاطمہ‘‘ رکھنا چاہتی ہے، لیکن جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ایمان کوئی نام نہیں ہے۔ کیا ’’ایمان فاطمہ‘‘ بہتر نام ہےایک بچی کے لیے ؟ یا فاطمہ زہرہ درست نام ہے؟ کیا کوئی بہتر سربراہ نام آپ بتا سکتے ہیں، جو فاطمہ کے ساتھ بہتر رہے۔
۳۔ الماس اور فرح ناموں کے معانی بھی بتائیں۔
۱۔ جی ہاں! ’’سفیان‘‘ نام رکھنا بلاشبہ درست ہے اور یہ ایک صحابی رسول کا بھی نام تھا۔
۲۔ ’’ایمان فا طمہ‘‘ اور ’’فاطمہ زہرہ‘‘ نام بھی رکھ سکتے ہیں، جبکہ ’’فاطمہ حیات‘‘ نام بھی مناسب ہے، مگر چند اچھے اور اسلامی نام بھی درج کر ہا ہوں ان میں سے کوئی تجویز کر لیں۔مثلاً: خنساء، رقیہ، عاتکہ، جویریہ، ماریہ، میمونہ، صبیحہ، ملیحہ، وجیہہ اور عائشہ وغیرہ۔
۳۔ ’’الماس‘‘ کا معنیٰ ہیرا، ایک نہایت قیمتی جواہر جو نہایت چمکدار ہوتا ہے ، جبکہ ’’فرح‘‘ کا معنی خوشی، خرمی، اور شادمانی کے آتے ہیں۔
ففی سنن أبي داود: عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، و أسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم» قال أبو داود: «ابن أبى زكريا لم يدرك أبا الدرداء»(4/ 287)۔
و فی سنن أبي داود: عن أبي وَهْب الجُشَمِىّ -وكانت له صحبة- قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم-: "تَسَمَّوْا بأسَماءِ الأنبياء، وأحَبُّ الأسماءِ إلى الله: عَبدُ الله وعبدُ الرحمن، وأصدَقُها: حارِثٌ وهَمَّامٌ، وأقْبَحُها: حَرْبٌ ومُرَّة"(7/ 305)۔