السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ!
مولانا اُمید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، آپ کو پھر تکلیف دے رہا ہوں ، میرے پہلے سے دو بیٹے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک اور بیٹا عنایت ہوا ہے ، میں پھر سے نام رکھنے کے سلسلے میں تشویش میں ہوں، آپ رہنمائی فرمائیں تو عین نوازش ہوگی ، پہلے بیٹے کا نام محمد حمدان الرحمن خان ، دوسرے کا نام محمد عبدان الرحمن خان ،تیسرے کا نام تجویز کریں ریّان الرحمن، رشدان الرحمن، شادان الرحمن، ذکوان الرحمن ، زیدان الرحمن ، رہنمائی فرمائیں ۔
مذکور ناموں میں سے" رشدان " (را کے زبر کے ساتھ )صحابی کا نام ہے، لہذا سائل کیلئے اپنے بچے کا نام رشدان الرحمٰن نام رکھنا درست ہے۔
فی الاصابۃ فی تمیز الصحابہ : رشدان الجھنی : لہ صحبۃ قالہ البخاری (حرف الراء،الراء بعدھا الشین (2/403)۔
و فی معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم : حدثنا…ثنا ابی اویس، عن ابیہ ، عن وھب بن عمرو بن مسلم بن سعد بن وھب الجھنی ، ان اباہ اخبرہ ، عن جدہ ، انہ کان یدعی فی الجاھلیۃ غیبان ,فسماہ النبیﷺ رشدان اھ(2/1121)۔