السلام علیکم محترم مفتی صاحب!
ہمارے امام صاحب کا کہنا ہے کہ فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کرانا سنت سے ثابت نہیں ہے، اور یہ مستحب عمل ہے، چنانچہ اس کو کبھی کبھار چھوڑ دینا چاہیئے ، اس معاملے میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیراً ۔
فرض نمازوں کے بعد امام و مقتدی یا منفرد کا دعا میں ہاتھ اٹھانا احادیثِ نبویہ و روایاتِ فقہیہ سے ثابت ہے، جو کہ سنتِ مستحبہ ہے ، پس امام اور مقتدی اس سنت پر اگر عمل کریں تو ضمناً خود بخود اجتماع ہو جائے گا، اور یہ جائز ہے۔
ہاں! دعا آہستہ مانگنا افضل ہے، کیونکہ قرآن وسنت میں اس کی ترغیب دی گئی ہے ، اور امام بآوازِ بلند دعا کرے اور مقتدی اس پر آمین کہے تو تعلیماً یہ بھی جائز ہے ، اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ، کیونکہ فرائض کے بعد نفس دعا اور ہاتھ کا اٹھانا، آمین کہنا اور دعا کے ختم پر دونوں ہاتھوں کا چہرے پر پھیرنا احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، البتہ مروّجہ اجتماعی دعا کہ امام و مقتدی سب مل کر ہی دعا کرتے ہیں ، ابتداء بھی ایک ساتھ ہوتی ہے اس طور پر کہ امام افتتاحیہ چند کلمات الحمد لله ”الی آخره“ وغیرہ اونچی آواز سے ادا کرتا ہے اور انتہاء بھی ایک ساتھ ہوتی ہے، جس کی بناء پر مقتدی امام کی دعا کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور امام سے پہلے اپنی دعا ختم نہیں کر سکتے ، اگر پہلے ختم کریں تو لوگوں میں یہ عمل معیوب سمجھا جاتا ہے، بعض مقامات پر تو امام کی جہری دعا کے جواب میں بآوازِ بلند ” آمین “ یا دوسرے جوابی کلمات نہ بولنے والے کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اور بعض مقامات پر مقتدی کو اپنی نماز سے فارغ ہو کر امام کی دعا کے انتظار میں بیٹھنا پڑتا ہے، یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا شریعت سے دور کا بھی تعلق نہیں، اور ”قرونِ ثلاثہ مشہو دلہا بالخیر“ میں اس کا ثبوت نہیں ملتا، اس لئے یہ طریقہ من گھڑت اور بدعت ہے، اس سے احتر از لازم ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امام اور مقتدی کا اجتماع ایک ضمنی چیز ہے، مقصود نہیں، لہٰذا اس کو اصل دعا سے بھی مزید بڑھانے کی کوشش کرنا اور ضروری سمجھنا درست نہیں، بلکہ امام کو بھی اختیار ہے کہ جتنی دیر چاہے دعا مانگے اور مقتدی کو بھی اختیار ہے، اس دعا میں کوئی ایک دوسرے کا تابع نہیں - لہٰذا اگر مقتدی چاہے تو مختصر دعا مانگ کر چلا جائے، اور چاہے تو امام کے ساتھ دعا ختم کرے، اگر چاہے تو امام کی دعا سے زیادہ دیر تک دعا مانگتا رہے، ہر طرح جائز ہے، اور ان میں سے کسی طرح بھی کرلے تو فرائض کے بعد کی یہ سنتِ مستحبہ ادا ہو جائے گا۔
کما في جامع الترمذي: عن أبي أمامة قال قيل يارسول الله أى الدعاء أسمع قال جوف الليل الآخر ودبر الصلوات المكتوبات هذا حديث حسن . اھ (2/187)
وفي الفتاوى الهندية: إذا دعا بالدعاء المأثور جهرا ومعه القوم أيضا ليتعلموا الدعاء لا بأس به، وإذا تعلموا حينئذ يكون جهر القوم بدعة، كذا فی الوجيز للكردري. اھ(318/5)
وفي الدرالمختار: وكل مباح يؤدي إليه فمكروه،اھ(2/120)
وفي رد المحتار: تحت (قوله فمكروه) الظاهر أنها تحريمية لأنه يدخل فی الدين ما ليس منه ط. (2/120)
وفي التحفة المرغوبة فی أفضلية الدعاء بعد المكتوبة: إلى قد سئلت عن الدعاء بعد المكتوبة هل هي سنة أم لا؟ وأن الدعاء بعد المكتوبة هل الأفضل فیه أن یكون الدعاء قبل السنة المؤكدة فی الصلاة وبعدها سنة أم لا؟ فقلت: إن الدعاء بعد المكتوبة سنة مستحبة إلا يحسن تركها لا سيّما فی حق الإمام، وجاز فیه أن يكون قبل السنة ما لم يكن الدعاء طويلة فكتبت هذه الرسالة وأوردت فیها ما يدل على عدم كراهة الدعاء قبل السنة بل على أنه الأفضل من أحاديث النبوية - صلى الله عليه وسلم – اھ (ص:251)
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: يسن ذكر الله والدعاء المأثور عقب الصلاة، إما بعد الفريضة مباشرة إذا لم يكن لها سنة بعدية كصلاة الفجر وصلاة العصر، وإما بعد الانتهاء من السنة البعدية كصلاة الظهر والمغرب والعشاء؛ لأن الاستغفار يعوض نقص الصلاة، والدعاء سبيل الحظوة بالثوا ب والأجر بعد التقرب إلى الله بالصلاة.
ويأتي بالأذكار سرا على الترتيب التالي إلا الإمام المريد تعليم الحاضرين فیجهر إلى أن يتعلموا، ويقبل الإمام على الحاضرين، جاعلا يساره إلى المحراب ۔ اھ (1/800)
وفي حاشية الطحطاوي: "ثم يدعون لأنفسهم وللمسلمين" بالأدعية المأثورة الجامعة (الى قوله)"رافعي أيديهم"حذاء الصدر وبطونها مما يلي الوجه بخشوع وسكون ثم يختمون بقوله تعالى: }سبحان ربك رب العزة عما يصفون{ الآية۔ وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من قال دبر كل صلاة سبحان ربك الآية فقد اكتال بالمكيال الأوفى من الأجر" "ثم يمسحون بها"أي بأيديهم"وجوههم فی آخره" لقوله صلى الله عليه وسلم:" إذا دعوت الله فادع بباطن كفیك ولا تدع بظهورهما فإذا فرغت فامسح بهما وجهك" وكان صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه فی الدعاء لم يحيطهما وفي رواية لم يردهما حتى يمسح بهما وجهه والله تعالى الموفق.(1/173)