روزانہ صلاۃ التسبیح باجماعت پڑھنا جائز ہے یا رمضان کے آخری عشرہ میں امام مسجد کے ساتھ ادا کرناہوگی؟
واضح ہو کہ صلوٰۃ التسبیح ادا کرنے کےلیے کوئی خاص وقت متعین نہیں ہے، بلکہ مکروہ اوقات کے علاوہ دن اور رات میں جس وقت بھی چاہے پڑھی جاسکتی ہے، جبکہ صلوٰۃ التسبیح نفلی نماز ہےاور نفل کی جماعت عندالاحناف مکروہ تحریمی ہے، لہذا اسے جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے بجائے تنہا ادا کرنا چاہیے۔
وفي الدر المختار: قوله (واربع صلاة التسبيح الخ) يفعلها في كل وقت لا كراهة فيه أوفی کل یوم أو ليلة مرة ، والا ففى كل اسبوع او جمعة او شهر او العمر -
وفی رد المحتار: (ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي، بأن يقتدي أربعة بواحد كما في الدرر، ولا خلاف في صحة الاقتداء إذ لا مانع نهر. (2/ 48)